خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 498
خطبات مسرور جلد سوم 498 خطبه جمعه 19 اگست 2005 ء حضرت فاطمہ سے ملتے اور جب واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے۔ایک مرتبہ جب آپ ایک غزوہ سے واپس تشریف لائے تو حضرت فاطمہ کے ہاں گئے۔جب دروازے پر پہنچے تو دیکھا کہ دروازے پر ایک پردہ لٹکا ہوا تھا اور حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما نے چاندی کے دو کڑے پہنے ہوئے تھے۔آپ کے بڑے لاڈلے نواسے تھے۔جب آپ نے یہ دیکھا آپ گھر میں داخل نہ ہوئے۔بلکہ واپس تشریف لے گئے۔حضرت فاطمہ بھانپ گئیں کہ آپ صلی اللہ کو ان چیزوں نے گھر میں داخل ہونے سے روکا ہے۔اس پر حضرت فاطمہ نے پردہ پھاڑ دیا اور بچوں کے کڑے لے کر توڑ دیئے۔اور اس کے بعد دونوں بچے روتے ہوئے حضور عابی یا اللہ کے پاس گئے۔حضور علی یا اللہ نے ان میں سے ایک بچے کو اٹھایا اور راوی کہتے ہیں کہ مجھے ارشاد فرمایا کہ اس کے ساتھ مدینہ میں فلاں کے ہاں جاؤ اور فاطمہ کے لئے ایک ہار اور ہاتھی دانت کے بنے ہوئے دو کنگن لے آؤ اور پھر فرمایا کہ میں اپنے اہل خانہ کے لئے پسند نہیں کرتا کہ وہ اس دنیا میں ہی تمام آسائش اور آسانیاں حاصل کر لیں۔رض (سنن ابی داؤد - كتاب الترجيل - باب في الانتفاع بالعاج) چاندی کیونکہ اس زمانے میں بھی زیب وزینت کی علامت سمجھی جاتی تھی اس لئے پسند نہ فرمایا کہ میرے بچے یہ چیزیں پہنیں۔بہر حال جو دوسری سادہ چیزیں تھیں منگوا بھی دیں۔آپ جو اپنی بیویوں اور بچوں کے اعلیٰ اخلاق دیکھنا چاہتے تھے اور ان کو اعلیٰ اخلاق پر قائم دیکھنا چاہتے تھے آپ کو یہ برداشت نہ تھا کہ آپ کے قریبی کوئی ایسی بات کریں جو کسی کا دل دکھانے والی ہو۔اس لئے ذراذراسی بات کی بھی آپ اصلاح فرمایا کرتے تھے۔حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ عبید اللہ سے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں چھوٹے قد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مذاق کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ کو صفیہ کے بارے میں یہ باتیں ہی کافی ہیں۔ان کے چھوٹے قد پر طنز کیا۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ نے فرمایا کہ یہ ایک ایسا کلمہ ہے کہ اگر یہ سمندر میں ملا دیا جائے تو اس کو بھی مکد رکر دے۔(سنن ابی داؤد کتاب الادب - باب في الغيبة)