خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 499 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 499

خطبات مسرور جلد سوم 499 خطبہ جمعہ 19 اگست 2005 ء تو آپ نے بڑے آرام سے ان کو یہ سمجھایا کہ میرے سے قریبی تعلق رکھنے والوں کے معیار اخلاق بہت اونچے ہونے چاہئیں۔اس چھوٹی سی مذاق میں کی گئی بات کو گو اس میں طنز بھی شامل تھا ، عام طور پر معمولی سمجھا جاتا ہے لیکن آپ نے اس کا بھی نوٹس لیا کیونکہ جس کے بارے میں بات کی جارہی ہے، جب اس کو پہنچتی ہے تو اس کے لئے تو وہ بہت بڑی بات بن جاتی ہے۔اور آپ نے طنز سے کراہت کا اظہار بھی فرما دیا۔بات کرنے والے کو بڑے اچھے انداز میں اس طرف توجہ بھی دلا دی کہ جس کو تم مذاق سمجھ رہی ہو یہ اتنی بڑی بات ہے جس سے معاشرے میں فساد پیدا ہو جاتے ہیں۔اور میرے قریبیوں کے اخلاق کے معیار اتنے اونچے ہونے چاہئیں کہ کبھی ذرا سی بھی ایسی بات نہ ہو جس سے کسی بھی قسم کا جھگڑا پیدا ہو۔اور مثال دے کر یہ فرمایا کہ بظاہر یہ چھوٹی باتیں ہیں جو اپنے اندر اتنا گند لئے ہوئے ہیں کہ سمندر کا پانی جس کی انتہا نہیں ہوتی اس میں بھی اگر اس گند کو ڈالا جائے تو اس کو بھی یہ خراب کر دے۔تو یہ ہیں اعلیٰ اخلاق، اور کس خوبصورت طریقے سے آپ نے سمجھایا۔گھر والوں کو یہ اعلیٰ اخلاق سکھانے کے بارے میں ایک اور روایت ہے۔کسی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ مجھے آنحضرت علب یا اللہ کے اخلاق فاضلہ کی بابت بتلائیں۔حضرت عائشہ نے فرمایا کیا تم قرآن میں یہ نہیں پڑھتے۔﴿وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عظيم - القلم : 5) پھر آپ فرمانے لگیں کہ ایک مرتبہ آنحضور علی یا اللہ اپنے صحابہ کے ساتھ تھے۔میں نے آپ کے لئے کھانا تیار کیا اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھی کھانا تیار کیا۔اور حفصہ نے مجھ سے پہلے کھانا تیار کر کے بھجوا دیا میں نے اپنی خادمہ سے کہا جاؤ اور حفصہ کے کھانے کا برتن انڈیل دو۔اس نے آنحضور عبیدلیل اللہ کے سامنے کھانے کا پیالہ رکھتے ہوئے انڈیل دیا جس سے پیالہ ٹوٹ گیا اور کھانا زمین پر بکھر گیا۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالے کے ٹکڑوں اور کھانے کو جمع کیا اور چمڑے کے دستر خوان پر رکھا اور وہاں سے اس بچے ہوئے کھانے کو کھایا اور پھر میرا پیالہ حضرت حفصہ کی طرف لوٹاتے ہوئے فرمایا کہ اپنے برتن کے عوض یہ برتن رکھ لو اور جو اس برتن میں ہے وہ بھی کھاؤ۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ لیکن آپ عبید اللہ کے