خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 497
خطبات مسرور جلد سوم 497 خطبه جمعه 19 اگست 2005 ء خدا تعالیٰ کی طرف جھکنا، اس کی عبادت کرنا ہے اور اس میں معیار قائم کرنا ہے۔ایک اور حدیث میں اسی طرح نصیحت کرنے کا ذکر آتا ہے اور اس سے آپ کے نصیحت کے رنگ اور وصف کا پتہ لگتا ہے۔حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی کریم ہے رات کو ہمارے گھر تشریف لائے۔اور مجھے اور فاطمہ کو تہجد کے لئے بیدار کیا۔پھر آپ اپنے گھر تشریف لے گئے اور کچھ دیر نوافل ادا کئے۔اس دوران ہمارے اٹھنے کی کوئی آہٹ وغیرہ محسوس نہ کی تو دوبارہ تشریف لائے اور ہمیں جگایا اور فرمایا اٹھو اور نماز پڑھو۔حضرت علی کہتے ہیں میں آنکھیں ملتا ہوا اٹھا اور کہا خدا کی قسم! جو نماز ہمارے لئے مقدر ہے ہم وہی پڑھ سکتے ہیں۔ہماری جانیں اللہ کے قبضے میں ہیں وہ جب چاہے ہمیں اٹھا دے۔رسول کریم واپس لوٹے۔آپ نے تعجب سے اپنی ران پر ہاتھ مارتے ہوئے میرا ہی فقرہ دوہرایا کہ ہم کوئی نماز نہیں پڑھ سکتے سوائے اس کے جو ہمارے لئے مقدر ہے پھر یہ آیت تلاوت کی کہ وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْ ءٍ جَدَلًا ﴾ (الكهف: 55) که انسان اکثر باتوں میں بحث کرنے والا ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 1 صفحه 91 مطبوعه بيروت) تو آپ ڈانٹ بھی سکتے تھے، سرزنش بھی کر سکتے تھے لیکن بڑے آرام سے نصیحت فرمائی۔یہ بھی بچوں کو سمجھا دیا کہ یہ تو میں سمجھاتا رہوں گا بتاتا رہوں گا ، بلاتا رہوں گا، میرا کام نصیحت کرنا ہے اور یہ جو تم نے بات کی ہے یہ غلط ہے۔بہت بحث کرنے والا انسان ہے۔بحث کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔آپ چاہتے تھے کہ آپ کی اولا د سادگی سے زندگی بسر کرنے والی ہواور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے والی ہو عبادت کرنے والی ہو اور اس میں معیار حاصل کرنے والی ہو۔دنیا کی چیزوں سے انہیں کوئی رغبت نہ ہو۔لیکن یہ بات پیدا کرنے کے لئے آپ نے کبھی سختی نہیں کی۔یا تو آرام سے سمجھاتے تھے یا اپنے رویے سے اس طرح ظاہر کرتے تھے کہ ان کو خود ہی احساس ہو جائے۔چنانچہ اس ضمن میں ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ثعبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضور علیل یااللہ جب کسی سفر پر جاتے تو سب سے آخر پر اپنے گھر والوں میں سے