خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 496 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 496

خطبات مسرور جلد سوم 496 خطبہ جمعہ 19 اگست 2005 کے اس حکم پر عمل کیا کہ وَذَكَرْ فَإِنَّ الذِّكْرَ تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ ﴾ (الذاريت : 56) اور تو نصیحت کرتا چلا جاپس یقیناً نصیحت مومنوں کو فائدہ پہنچاتی ہے۔آپ کی نصیحت کا انداز بھی عجیب تھا۔آپ کو اللہ تعالیٰ کا یہ بھی حکم تھا کہ نرمی اور پیار سے اپنے ماننے والوں سے سلوک کرنا ہے۔اس لئے آپ نے اپنوں یعنی اپنے قریبی عزیزوں ، بچوں سے بھی سمجھانے کے لئے نرمی اور محبت اور شفقت کے سلوک فرمائے اور امت کے دوسرے افراد سے بھی ، اپنے صحابہ سے بھی۔اور ہمیشہ اس حکم کو مد نظر رکھا کہ تیرا کام نصیحت کرنا ہے آرام سے نصیحت کرتا چلا جا۔اور ایک اعلیٰ معلم کا یہی نمونہ ہونا چاہئے۔آپ نے ہمارے سامنے یہ نمونہ قائم کیا کہ اگر اصلاح معاشرہ کے لئے اعلیٰ معیار قائم کرنے ہیں تو اپنے گھر سے اصلاح شروع کر و۔اس کا اثر بھی ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا حکم بھی یہ ہے کہ اپنے آپ کو اور اپنے اہل کو آگ سے بچاؤ۔ان راستوں پر چلو اور ان کو چلا ؤ جو اللہ تعالیٰ کے قرب کی طرف لے جانے والے راستے ہیں، جو اعلیٰ اخلاق حاصل کرنے والے راستے ہیں۔اور آپ علی اللہ نے جن پر شرعی احکامات کا خاتمہ ہوا، آخری شرعی نبی تھے آپ نے تو اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت اعلیٰ ترین معیار قائم کرنے تھے۔چنانچہ چھوٹی سے چھوٹی بات کی طرف بھی آپ اپنے گھر والوں کو توجہ دلاتے اور ان کی تربیت فرماتے تھے لیکن انتہائی صبر سے،حوصلے سے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمل چھ ماہ تک فجر کی نماز کے لئے جاتے ہوئے حضرت فاطمہ کے دروازے کے پاس سے یہ فرما کر گزرتے رہے کہ : اے اہل بیت ! نماز کا وقت ہو گیا ہے۔اور پھر یہ آیت تلاوت فرمایا کرتے تھے کہ إِنَّمَا يُرِيْدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا (الاحزاب: 34) کہ اے اہل بیت ! اللہ تم سے ہر قسم کی گندگی دور کرنا چاہتا ہے اور تم کو اچھی طرح پاک کرنا چاہتا ہے۔(ترمذی - کتاب التفسير -باب ومن سورة الاحزاب) یہ ہے نصیحت کا عمدہ طریقہ۔کوئی غصہ نہیں لیکن مسلسل نصیحت ہے۔اپنے گھر والوں کو ، اپنے بچوں کو ان کے مقام اور ذمہ داریوں کی طرف احساس بھی دلایا جا رہا ہے کہ تمہارا اصل کام