خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 487
خطبات مسرور جلد سوم 487 خطبه جمعه 12 اگست 2005 ء طرف توجہ کے لباس کی طرف توجہ رہے۔پھر سادگی کی ایک اور مثال، اگر کوئی غریب آدمی بھی آپ کو دعوت پر بلاتا تو آپ ضرور جاتے اور غریب کے تھنے کی بھی قدر کرتے۔چنانچہ آپ فرمایا کرتے تھے ، ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابو ہریر گا روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ اگر مجھے بکری کے پائے کی دعوت پر بھی بلایا جائے تو میں دعوت پر جاؤں گا۔اور اگر مجھے بکری کا پایہ بھی تحفہ میں دیا جائے تو میں اسے (بخارى - كتاب النكاح - باب من اجاب الى كراع) قبول کروں گا۔یہ بات آپ کی غریبوں اور مسکینوں سے محبت کا بھی اظہار کرتی ہے اور یہ محبت اس لئے بھی تھی کہ خدا تعالیٰ بھی غریبوں اور مسکینوں سے محبت کرتا ہے۔اس لئے آپ یہ دعا بھی کیا کرتے تھے کہ مجھے بھی یہ مسکینی کی حالت نصیب ہو۔چنا نچہ ایک روایت میں آتا ہے حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ: اے اللہ ! مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ اور مجھے مسکینی کی حالت میں وفات دینا اور قیامت کے دن مساکین کے گروہ میں سے مجھے اٹھانا۔اس پر حضرت عائشہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ ایسی دعا کیوں کرتے ہیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا کیونکہ مساکین امیر لوگوں سے چالیس سال قبل جنت میں داخل ہوں گے۔اس لئے اے عائشہ ! تو مسکین کو نہ دھتکار خواہ تجھے کھجور کا ٹکڑہ ہی دینا پڑے۔اور مساکین سے محبت رکھ اور انہیں اپنے قریب رکھا، اللہ تعالیٰ اس کے نتیجہ میں تجھے قیامت کے روز اپنا قرب عطا فرمائے گا۔(سنن الترمذى كتاب الزهد عن رسول الله باب ما جاء عن فقراء المهاجرين) پس جہاں اپنے عمل سے مسکینوں سے محبت کے آپ نے اعلیٰ معیار آپ نے قائم فرمائے ، امت کو بھی یہ نصیحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لئے ضروری ہے کہ تم مساکین سے بھی محبت رکھو، غریب کا بھی خیال رکھو۔ایک اور روایت میں آتا ہے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ