خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 488
خطبات مسرور جلد سوم 488 خطبه جمعه 12 اگست 2005 ء علیہ وسلم کثرت سے ذکر کرتے اور لغو سے بچتے تھے۔نماز نسبتا لمبی پڑھاتے تھے اور خطبہ چھوٹا دیتے اور تکبر نہ کرتے اور بیوگان اور مساکین کے ساتھ چل کر ان کی حاجات کو پورا کرنے میں عار محسوس نہ کرتے۔صلى الله (سنن الدارمي مقدمه باب فى تواضع رسول الله ﷺ) پھر اس کمزور اور غریب طبقے کے اللہ کے نزدیک مقام کے بارے میں آپ ایک جگہ فرماتے ہیں۔حضرت حارثہ بن وہب روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کیا میں تمہیں جنت والوں کی اطلاع نہ دوں۔صحابہ نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر کمزور قرار دیئے جانے والا اگر وہ اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم اٹھالے تو اللہ تعالیٰ اس کی لاج رکھتا ہے۔یعنی اس کی قسم کو پورا فرما دیتا ہے۔پھر فرمایا کہ کیا میں تم کو آگ والوں کی خبر نہ دوں۔صحابہ نے عرض کی کیوں نہیں؟ اس پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر سرکش ، درشت مزاج، متکبر، آگ والا ہے۔(مسلم - كتاب الجنة ونعيمها - باب النار يدخلها الجبارون۔۔۔۔۔۔۔پس جیسا کہ آپ نے یہ خوشخبری دی ہے جنت تلاش کرنی ہے تو کمزوروں اور غریبوں میں تلاش کرو۔ایک اور روایت میں انہیں غریبوں اور مسکینوں کے بارے میں اپنے صحابہ کو نصیحت کرتے ہوئے یہ فرمایا۔حضرت ابو عباس سہل بن سعد ساعدی روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس بیٹھنے والوں سے فرمایا اس شخص کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے۔اُس نے کہا یہ معزز لوگوں میں سے ہے۔اللہ کی قسم میہ اس قابل ہے کہ اگر یہ کہیں نکاح کا پیغام دے تو اس کا نکاح کر دیا جائے۔اور اگر یہ سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول کی جائے۔اس کی بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔پھر ایک اور شخص کا گزر ہوا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو کہا اس آدمی کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے۔اس نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ غریب مسلمانوں میں سے ہے۔یہ تو ایسا ہی ہے کہ اگر یہ نکاح کا پیغام دے تو اس کا نکاح نہ کیا جائے اور اگر سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ کی جائے اور اگر کوئی بات کہے تو اس کی بات نہ سنی جائے۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ