خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 486
خطبات مسرور جلد سوم 486 خطبه جمعه 12 اگست 2005 ء ڈال دیا کرتا تھا۔آپ کا اصل مقصد تو یہی تھا کہ دنیاوی چیزیں مجھے اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دیں۔اس لئے آپ زیادہ آسائش اور سہولت والی چیز میں زیادہ استعمال نہیں کرتے تھے۔چنانچہ حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس بستر پر سوتے تھے وہ چمڑے کا ایک گدیلہ تھا جس میں کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے اور ایک دوسری روایت میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا گھر والا بستر بالوں سے بنی ہوئی چادر پر مشتمل تھا جسے دوہرا کر دیا جاتا تو آپ اس پر سو جاتے تھے۔ایک رات ہم نے اس کی چار جہیں کر دیں تو جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا رات کو تم نے میرے بستر پر کیا بچھایا تھا۔اس پر ہم نے چادر کی چار نہیں کرنے کا ذکر کیا۔اس پر آنحضور ﷺ نے فرمایا میرا بستر جیسے پہلے ہوتا تھا ویسے ہی کر دو۔اس بستر پر سونے نے آج رات مجھے نماز سے روک دیا تھا۔الشفاء للقاضي عياض۔الباب الثاني الفصل الثاني والعشرون الزهد في الدنيا | ایک دفعہ حضرت عائشہ نے اس کھجور کے پتوں کے گدیلے پر ایک چادر چار نہیں کر کے بچھا دی۔اس دن آپ تہجد کے لئے نہ اٹھ سکے تو آپ نے پوچھا آج بستر کچھ بدلا ہوا ہے، کیا وجہ ہے؟ تو حضرت عائشہؓ نے عرض کی کہ ہاں ایک چادر کی چار نہیں کر کے بچھا دی تھی تا کہ کھجور کے پتے آپ کو نہ چھیں ، جو ریشہ ہے۔آپ نے فرمایا اس کو اٹھا دو اس وجہ سے آج مجھے دیر سے جاگ آئی ہے اور میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ میرا کوئی دم اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل ہو۔ایک دفعہ آپ کے لئے ایک لباس آیا جس پر عمدہ نقش و نگار تھے، اچھا پرنٹ تھا۔آپ نے اس پر غور نہیں کیا اور اسی طرح سادگی میں پہنا اور نماز کے لئے چلے گئے۔نماز پڑھنے کے دوران آپ کی نظر اس پر پڑی تو نماز پڑھ کر جب گھر تشریف لائے تو اس کو اتار دیا اور حضرت عائشہ سے فرمایا یہ لباس فلاں کو بھیج دو اور میرے لئے تو سادہ کپڑے کا لباس مہیا کرو۔میں ایسا لباس نہیں پہن سکتا جو مجھے اللہ کی یاد سے غافل کرے۔اس لئے جو لوگ نماز کے دوران اپنے لباس کی فکر میں رہتے ہیں ان کے لئے بھی اس میں اُسوہ ہے، نمونہ ہے کہ ایسا لباس پہنا ہی نہیں چاہئے جو نماز سے توجہ ہٹائے اور بجائے نماز کی