خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 483
خطبات مسرور جلد سوم 483 خطبه جمعه 12 اگست 2005 ء کی محبت حاصل کرنے کے لئے تھے، اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے کی جو تعلیم تھی اس میں عمل دکھانے کے لئے تھے۔پھر جس طرح پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ صحابہ کے ساتھ عام کام سرانجام دیا کرتے تھے اسی طرح جنگ احزاب کے موقع پر ایک عام آدمی کی طرح، ایک عام سپاہی کی طرح آپ نے کام کیا جس کا روایت میں یوں ذکر آتا ہے۔حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگ احزاب میں خندق کھود نے کے دوران ایک جگہ سے دوسری جگہ مٹی لے جاتے ہوئے دیکھا اور مٹی نے آپ کی پیٹ کی سفیدی کو ڈھانپ لیا تھا۔یعنی کام کر کر کے مٹی بھی گر رہی ہو گی تو مسلمانوں کی تعداد کم تھی ایک ایک آدمی کی بڑی اہمیت تھی، کام کی زیادتی بھی تھی ایک تو یہ کہ آپ کی طبیعت میں یہ تھا کہ عام مسلمانوں کی طرح میں بھی ہر کام میں حصہ لوں۔دوسرے اس وقت میں تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ آپ پیچھے رہتے کہ صرف نگرانی کریں۔بلکہ آپ نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر یہ سارے کام سرانجام دیئے۔پھر سادہ زندگی اور قناعت کی طرف اپنے بچوں کو بھی توجہ دلاتے رہتے تھے۔ایک تو پہلے اس امر پہ ایک حدیث بیان کی گئی کہ کس طرح اس کا بچوں پہ اثر ہوا۔ایک اس حدیث میں آپ نے براہ راست نصیحت فرمائی اور نصیحت بھی اپنی انتہائی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہ کو فرمائی۔اس کا روایت میں یوں ذکر آتا ہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے چکی پینے کی وجہ سے ہاتھوں میں تکلیف ہوگئی اور ان دنوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تھے۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضور کے پاس گئیں لیکن آپ کو وہاں نہ پایا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملیں اور آنے کی وجہ بتائی۔جب حضور باہر سے تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے آنے کا ذکر کیا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر آئے ، رات کا وقت تھا، کہتے ہیں کہ ہم بستروں پر لیٹ چکے تھے تو حضور کے تشریف لانے پر ہم اٹھنے لگے تو آپ نے فرمایا نہیں لیٹے رہو۔پھر آپ ہمارے