خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 484 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 484

خطبات مسرور جلد سوم 484 خطبہ جمعہ 12 اگست 2005 ء درمیان تشریف فرما ہوئے۔کہتے ہیں کہ یہاں تک کہ حضور کے قدموں کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں محسوس کی۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تمہارے سوال سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟ جب تم بستروں پر لیٹنے لگو تو 34 دفعہ اللہ اکبر کہو ، 33 بار سبحان اللہ اور 33 بار الحمد للہ کہو۔یہ تمہارے لئے نوکر سے بہتر ہے، ملازمین رکھنے سے بہتر ہے۔(مسلم - كتاب الذكر - باب التسبيح أول النهار وعند النوم) آپ نے اپنی لاڈلی بیٹی کے ہاتھ کے زخموں کو دیکھ کر باپ کی شفقت اور پیار سے مغلوب ہو کر ان کی اس وقت کی وہ ضرورت پوری نہیں کی۔بلکہ اس حکم پر عمل کرتے ہوئے کہ یہ دنیا کی چیزیں عارضی فائدے کی چیزیں ہیں اور تم جس کا میرے ساتھ خونی رشتہ بھی ہے اس وجہ سے سب سے زیادہ قرب کا رشتہ بھی ہے، روحانی رشتہ بھی ہے خونی رشتہ بھی ہے تو تمہاری بھلائی کے لئے یہ میں کہتا ہوں کہ ان دنیاوی آسائشوں پر نظر نہ رکھو بلکہ سادگی اور قناعت کو اختیار کرو۔تمہارے ہاتھوں کے یہ زخم اللہ تعالیٰ کو پیارے ہیں۔اللہ کے فضلوں کو مزید سمیٹنے کے لئے اس طرح سادہ زندگی بسر کرو، اپنے کام کو ہاتھ سے کرو اور اس کے ساتھ ساتھ تکبیر تسبیح اور تحمید جو بتائی ہے وہ کرو۔یہ زیادہ بہتر ہے اور اللہ کا قرب دلانے والی چیز ہے اُس کی نسبت جس کا تم مطالبہ کر رہی ہو یعنی ایک غلام کا۔ویسے بھی اس وقت اور بھی ضرورت مند تھے ان کو شائدان سہولتوں ان غلاموں کی زیادہ ضرورت ہو۔آپ ہر قسم کے اسوہ کی مثالیں اپنی ذات اور اپنے گھر سے قائم کرنا چاہتے تھے۔اس لئے آپ نے فرمایا کہ یہ چیزیں اپنے لئے نہ لو بلکہ اللہ تعالیٰ کی یاد اور عبادت کی طرف تمہیں نظر رکھنی چاہئے۔اور وہی دنیاو آخرت میں تمہارا بہترین سرمایہ ہوگی۔اور حضرت فاطمہ کے ضمن میں اسی سادگی کی مثال ایک اور دے دوں کہ جب حضرت فاطمہ کی شادی ہوئی ہے انتہائی سادہ شادی تھی۔جہیز میں آپ نے جو چیز میں حضرت فاطمہ کو دیں ان میں ایک ریشمی چادر تھی اور ایک چھڑے کا گدیلا تھا جس میں کھجور کے پتے یا ریشے بھرے ہوئے تھے۔آٹا پینے کی ایک چکی تھی ، ایک مشکیزہ تھا اور دوگھڑے تھے۔کل یہ جہیز تھا جو آپ نے دیا۔اور اس طرح سادگی کی اعلیٰ مثال قائم کی ، ان کو بھی بتایا کہ سادہ رہو اور قناعت کرنے کی