خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 482
خطبات مسرور جلد سوم 482 خطبه جمعه 12 اگست 2005 ء ہو چکا ہے، آپ کے سوال و جواب کا ذکر بھی کر دیتا ہوں کہ آپ کو آپ کے رب اور اگلے لوگوں کے رب کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ نے آپ کو سب لوگوں کی طرف بھیجا ہے؟۔آپ نے فرمایا ہاں اللہ کی قسم ! پھر کہنے لگا میں آپ کو قسم دیتا ہوں، کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ رات اور دن میں پانچ نمازیں پڑھیں؟ حضور نے فرمایا ہاں۔پھر اس نے کہا میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ سال بھر میں اس مہینے یعنی رمضان میں روزے رکھو ؟۔آپ نے فرمایا اللہ کی قسم ہاں۔پھر کہنے لگا میں آپ کو قسم دیتا ہوں کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ ہم میں سے جو مالدار لوگ ہیں ان سے زکوۃ لے کر ہمارے محتاجوں میں بانٹ دو؟۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم ایسے ہی ہے۔وہ شخص کہنے لگا آپ جو تعلیم لے کر آئے ہیں میں اس پر ایمان لایا اور میں اپنی قوم کے لوگوں کا جو یہاں نہیں آئے ہوئے بھیجا ہوا نمائندہ ہوں۔میرا نام زمام بن ثعلبہ ہے اور میں بنو سعد بن بکر کا بھائی ہوں۔(بخاری - کتاب العلم -باب القراءة والعرض على المحدث ) پھر آپ کا صحابہ کے ساتھ بے تکلف اور سادہ ماحول کا ایک اور روایت میں بھی ذکر ملتا ہے۔روایات تو کئی ہیں۔میں ایک اور روایت بیان کرتا ہوں جس سے آپ کی بے تکلفی اور سادگی کا وصف مزید نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ سفر میں تھے، راستہ میں کھانا تیار کرنے کا وقت آیا تو ہر ایک نے اپنے اپنے ذمہ کچھ کام لئے کسی نے بکری ذبح کرنے کا کام لیا، کسی نے کھال اتارنے کا، کسی نے کھانا پکانے کا۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جنگل سے لکڑیاں لے کر آؤں گا۔صحابہ نے عرض کیا کہ ہم کافی ہیں، ہم لے آتے ہیں۔آپ کیوں تکلیف کرتے ہیں۔تو آپ نے فرمایا: میں جانتا ہوں لیکن میں یہ امتیاز پسند نہیں کرتا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے کو نا پسند کرتا ہے جو اپنے ساتھیوں میں امتیازی شان کے ساتھ رہنا پسند کرتا ہو۔(شرح العلامة الزرقاني الفصل الثانى فيما اكرمه الله تعالى به من الاخلاق الزكية ) یہ سادگی اور نفسی کے اظہار کسی دکھاوے کے لئے نہ تھے بلکہ بے اختیار تھے اور اللہ تعالیٰ