خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 384 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 384

خطبات مسرور جلد سوم 384 خطبہ جمعہ 24 / جون 2005ء سے کہلا سکتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی محبت کے بعد اعلیٰ اخلاق بھی اپنائے جائیں۔دراصل تو اعلیٰ اخلاق بھی اللہ تعالیٰ سے محبت کا ہی ایک حصہ ہیں۔کیونکہ اعلیٰ اخلاق بھی تقویٰ سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے اندر اپنی محبت اور اس کے نتیجے میں تقویٰ کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور جن برائیوں کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ذکر فرمایا ہے ان سے مکمل بچنے والے ہوں۔اپنے دلوں کو کینوں اور بغضوں سے پاک کرنے والے ہوں۔اپنی ذاتی رنجشوں کو جماعتی رنگ دینے والے نہ ہوں کسی عہدیدار سے ذاتی عناد یار بخش کی وجہ سے اس عہد یدار کی حکم عدولی کرنے والے نہ ہوں۔اور اسی طرح عہدیداران بھی اپنی کسی ذاتی رنجش کی وجہ سے کسی کے خلاف ایسی کارروائی نہ کریں جس سے ان کے عہدے کا ناجائز استعمال ظاہر ہوتا ہو۔اللہ تعالیٰ نے اگر کسی کو موقع دیا ہے کہ وہ جماعتی عہد یدار بنایا گیا ہے اس پر خدا کا شکر کریں۔نہ کہ اس وجہ سے گردنیں اکٹر جائیں اور تکبر اور رعونت پیدا ہو جائے۔جماعتی عہد یداران کو اپنی عبادتوں میں بھی اور اعلیٰ اخلاق میں بھی ایک نمونہ ہونا چاہئے۔عاجزی اور انکساری کے بھی اعلیٰ معیار قائم کرنے چاہئیں۔عدل اور انصاف کے بھی تمام تقاضے پورے کرنے چاہئیں۔پس جہاں ایک عام احمدی پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرے، صبر سے کام لے، ایک دوسرے کے قصوروں کو معاف کرنے کی عادت ڈالے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہش کے مطابق جماعت کا فرد بنے تا کہ دشمن کے ہنسی ٹھٹھا سے بھی بچے۔کیونکہ جب احمدی اتنے دعووں کے بعد ایسی غلطیاں کرتا ہے تو دشمن کے لئے جماعت پر انگلیاں اٹھانے کا باعث بنتا ہے، مخالفین کے لئے جماعت پر انگلیاں اٹھانے کا سے وہ باعث بنتا ہے۔اور کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی جماعت کی غیرت رکھتا ہے ایسی حرکتوں کی وجہ سے احمدی جس نے دشمن کو نسی کا موقع دیا اللہ تعالیٰ کے قرب سے گر جاتا ہے۔تو جب ایک عام احمدی کی ایسی حرکتوں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا تو جو عہدیدار ہیں وہ تو پھر اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں زیادہ ہیں۔اس لئے ان کو اور زیادہ استغفار کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کا اہل بنائے کہ اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرسکیں۔