خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 383
خطبات مسرور جلد سوم 383 خطبہ جمعہ 24 / جون 2005ء لیکن اگر یہی کام ، یہی کاروبار، یہی جائیدادیں اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے کا باعث بن رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے حقوق ادا کرنے کا باعث بن رہی ہیں تو یہی چیزیں ہیں جو بندے کو خدا تعالیٰ کے سایہ رحمت میں رکھ رہی ہیں اور سایہ رحمت میں رکھنے کے قابل بنا رہی ہیں۔پس احمدی کی دنیا داری بھی دین کی خاطر ہونی چاہیئے۔پھر ایک اور جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: اس جماعت کو تیار کرنے سے غرض یہی ہے کہ زبان ، کان، آنکھ اور ہر ایک عضو میں تقومی سرایت کر جاوے۔تقویٰ کا نور اس کے اندر اور باہر ہو۔اخلاق حسنہ کا اعلیٰ نمونہ ہو۔اور بے جا غصہ اور غضب وغیرہ بالکل نہ ہو۔میں نے دیکھا ہے کہ جماعت کے اکثر لوگوں میں غصہ کا نقص اب تک موجود ہے۔تھوڑی تھوڑی سی بات پر کینہ اور بغض پیدا ہو جاتا ہے اور آپس میں لڑ جھگڑ پڑتے ہیں۔ایسے لوگوں کا جماعت میں سے کچھ حصہ نہیں ہوتا۔اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس میں کیا دقت پیش آتی ہے کہ اگر کوئی گالی دے تو دوسرا چپ کر رہے اور اس کا جواب نہ دے۔ہر ایک جماعت کی اصلاح اوّل اخلاق سے شروع ہوا کرتی ہے۔چاہئے کہ ابتدا میں صبر سے تربیت میں ترقی کرے اور سب سے عمدہ ترکیب یہ ہے کہ اگر کوئی بدگوئی کرے تو اس کے لئے درد دل سے دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح کر دیوے اور دل میں کینہ کو ہرگز نہ بڑھا دے۔جیسے دنیا کے قانون ہیں ویسے خدا کا بھی قانون ہے۔جب دنیا اپنے قانون کو نہیں چھوڑتی تو اللہ تعالیٰ اپنے قانون کو کیسے چھوڑے۔پس جب تک تبدیلی نہ ہو گی تب تک تمہاری قدر اس کے نزدیک کچھ نہیں۔خدا تعالیٰ ہر گز پسند نہیں کرتا کہ حلم اور صبر اور عفو جو کہ عمدہ صفات ہیں ان کی جگہ درندگی ہو۔اگر تم ان صفات حسنہ میں ترقی کرو گے تو بہت جلد خدا تک پہنچ جاؤ گے۔لیکن مجھے افسوس ہے کہ جماعت کا ایک حصہ ابھی تک ان اخلاق میں کمزور ہے۔ان باتوں سے صرف شماتت اعداء ہی نہیں ہے بلکہ ایسے لوگ خود بھی قرب کے مقام سے گرائے جاتے ہیں۔(ملفوظات جلد 4 صفحه 99 جدید ایڈیشن - البدر صفحه 3 تا 8 مورخه 8/ ستمبر 1904ء) پس ہم میں سے ہر ایک اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں