خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 382
خطبات مسرور جلد سوم 382 خطبہ جمعہ 24 / جون 2005ء کے قریب کرنے کا باعث بنے گی اور آپ کی ضرورتیں بھی خدا تعالیٰ پوری فرماتا رہے گا۔دوسروں کی تکلیف دور کرنے سے اللہ تعالیٰ آپ کی بھی تکلیفیں دور فرمائے گا۔اور سب سے بڑی بات جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے کہ قیامت کے دن ستاری ہو۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس زمرے میں شامل فرمائے جن سے ہمیشہ ستاری اور مغفرت کا سلوک ہوتا رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کے مطابق آپ کی خواہش کے مطابق ایسی جماعت بنے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والی بھی ہو اور بندوں کے حقوق ادا کرنے والی بھی ہو آپس میں محبت اور اخوت کی اعلیٰ مثالیں قائم کرنے والی بھی ہو۔آپ فرماتے ہیں کہ : تمام مخلصین داخلین سلسلہ بیعت اس عاجز پر ظاہر ہو کہ بیعت کرنے سے غرض یہ ہے کہ تا دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو اور اپنے مولیٰ کریم اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دل پر غالب آ جائے اور ایسی حالت انقطاع پیدا ہو جائے جس سے سفر آخرت مکر وہ معلوم نہ ہو۔د اطلاع منسلکه آسمانی فیصله - روحانی خزائن جلد 4 صفحه (351) پس ہم میں سے ہر ایک کو اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہئے اور یہ ماحول تو یہاں میسر آ گیا ہے کہ ان تین دنوں میں دنیا داری سے ہٹ کر خالص اللہ کے ہوتے ہوئے اس کے حضور جھکتے ہوئے ، اس سے مدد مانگتے ہوئے ، اس غرض کو پورا کرنے کی کوشش کریں کہ اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی محبت ، سب محبتوں پر غالب آ جائے۔اور یہ محبت اس وقت تک غالب نہیں ہو سکتی جب تک دنیا کی محبت ٹھنڈی نہ ہو جائے۔اگر نمازیں پڑھ رہے ہیں اور اس طرح جلدی جلدی پڑھ رہے ہیں کہ دنیا کے کام کا حرج نہ ہو جائے تو یہ تو انقطاع نہیں ہے۔یہ تو دنیا سے تعلق توڑنے والی بات نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ دنیاوی کاموں کو جائز قرار دیتا ہے بلکہ یہ بھی ناشکری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کام کے جو موقعے دیئے ہیں ان سے پورا فائدہ نہ اٹھایا جائے۔لیکن اگر یہ کام یہ کاروبار، یہ جائیدادیں خدا تعالیٰ سے دور لے جانے والی ہیں تو پھر ایسے کام بھی ، ایسی ملازمتیں بھی ، ایسے کاروبار بھی ایسی جائیدادیں بھی پھینک دینے کے لائق ہیں۔اگر ملازمتوں میں، کاروباروں میں خدا تعالیٰ کو بھلا کر دھو کے اور فراڈ کئے جا رہے ہیں تو ایسے کاروبار اور ایسی ملازمتوں پر لعنت ہے۔