خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 381
خطبات مسرور جلد سوم 381 خطبہ جمعہ 24 / جون 2005ء جھگڑوں کی وجہ سے جو مختلف خاندانوں میں، معاشرے میں جو تلخیاں ہیں وہ دور ہو سکتی ہیں۔اگر ایسی چیزیں ختم کر دیں اگر ان عائلی جھگڑوں میں ، میاں بیوی کے جھگڑوں میں علیحدگی تک بھی نوبت آ گئی ہے تو ابھی سے دعا کرتے ہوئے ، اس نیک ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دعاؤں پر زور دیتے ہوئے ، ان پھٹے دلوں کو جوڑنے کی کوشش کریں۔اور اسی طرح بعض اور وجوہ کی وجہ سے معاشرے میں تلخیاں پیدا ہوتی ہیں۔جھوٹی اناؤں کی وجہ سے جو نفرتیں معاشرے میں پنپ رہی ہیں یا پیدا ہو رہی ہیں ان کو دور کریں۔ایک دوسرے کی غلطیوں اور زیادتیوں اور کوتاہیوں سے پردہ پوشی کو اختیار کریں۔ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے ان کی برائیاں مشہور کرنے کی بجائے پردہ پوشی کا راستہ اختیار کریں۔ہر ایک کو اپنی برائیوں پر نظر رکھنی چاہئے۔اللہ کا خوف کرنا چاہئے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہ اس پر ظلم نہیں کرتا اور نہ ہی اسے یک و تنہا چھوڑتا ہے۔جو شخص اپنے بھائی کی حاجت روائی میں لگا رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کی حاجات پوری کرتا جاتا ہے۔اور جس نے کسی مسلمان کی کوئی تکلیف دور کی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کے مصائب میں سے ایک مصیبت اس سے کم کر دے گا۔اور جو کسی مسلمان کی ستاری کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کی ستاری فرمائے گا۔(سنن ابی داؤد - كتاب الأدب ـ باب المؤاخاة) پس اپنے دل میں ہر وقت یہ خیال رکھیں کہ اللہ تعالیٰ جو علیم بھی ہے اور خبیر بھی ہے۔اس کو سب علم اور خبر ہے کہ ہم کیا کرتے ہیں اور کیا نہیں کرتے۔اگر اس نے آپ کی برائیوں کو دنیا پر ظاہر کر دیا تو آپ کا کیا حال ہوگا۔اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ مرنے کے بعد اگر اللہ تعالیٰ ستاری فرمائے تو اس سے زیادہ اور بڑی چیز کیا ہوسکتی ہے۔انسان گناہگار ہے، غلطی کا پتلا ہے اس سے اگر اللہ تعالیٰ حساب کتاب لینے لگ جائے اور ستاری نہ فرمائے تو کیا رہ جاتا ہے۔پس آپس میں ایسی محبت پیدا کریں کہ دوسرے کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھیں۔دوسرے کی ضروریات کو اس لئے پورا کریں کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے ہمدردی آپ کو بھی اللہ تعالیٰ