خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 18 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 18

خطبات مسرور جلد سوم 18 خطبہ جمعہ 17 جنوری 2005ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کے وارث بنے رہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ : ” اور جو شخص ایسی ضروری مہمات میں مال خرچ کرے گا میں امید نہیں رکھتا کہ اس مال کے خرچ سے اس کے مال میں کچھ کمی آجائے گی بلکہ اس کے مال میں برکت ہوگی۔پس چاہئے کہ خدا تعالیٰ پر توکل کر کے پورے اخلاص اور جوش اور ہمت سے کام لیں کہ یہی وقت خدمت گزاری کا ہے۔پھر بعد اس کے وہ وقت آتا ہے کہ ایک سونے کا پہاڑ بھی اس راہ میں خرچ کریں تو اس وقت کے پیسے کے برابر نہیں ہوگا“۔( یہ آپ نے اپنے وقت کی بات کی ہے ) یہ ایک ایسا مبارک وقت ہے کہ تم میں خدا کا فرستادہ موجود ہے۔اور خدا تعالیٰ نے متواتر ظاہر کر دیا ہے کہ واقعی اور قطعی طور پر وہی شخص اس جماعت میں داخل سمجھا جائے گا کہ اپنے عزیز مال کو اس راہ میں خرچ کرے گا۔(مجموعه اشتہارات جلد سوم صفحه 497) تو بڑی قربانیاں کرنے والے جو ہیں ان کو بھی یہی سمجھنا چاہئے کہ یہ ایک فضل الہی ہے جو اُن پر ہوا۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں جو صحابہ کی بظاہر معمولی قربانیاں تھیں وہ جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں وہ معمولی قربانیاں بھی بہت بڑا درجہ رکھتی ہیں۔لیکن اس زمانے میں بھی اپنی قربانیاں کرنے کے بعد جیسا کہ ہم اب بھی نمونے دیکھتے ہیں اگر عاجزی سے قربانیاں پیش کرتے چلے جائیں گے تو ان دعاؤں کے حصہ دار بنیں گے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت کے لئے کی ہیں۔آخر پر میں آپ لوگوں سے جو یہاں پر جلسہ سننے کے لئے آئے ہیں، آپ سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس جلسے میں شمولیت آپ لوگوں کے لئے پاک تبدیلی کا باعث ہونی چاہئے۔ایک دوسرے کو سلام کرنے کا رواج دیں، اس ماحول میں پیارا اور محبت سے ملیں۔یہاں جماعت اتنی چھوٹی ہے کہ ذراسی بھی کمزوری یا اچھائی فوراً پورے ماحول میں پھیل جاتی ہے۔اس لئے کوشش کریں کہ اگر کسی چیز کو پھیلانا ہے تو وہ نیکیوں کی ، خیر کی ، اچھی بات کی ، پیار کی ، محبت کی خوشبو پھیلانی ہے۔ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھنا ہے، دعاؤں پر زور دینا ہے۔یہ دو دن آپ کا جلسہ ہے اس میں دنیا داری کی بجائے صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اپنے ماحول کو