خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 17 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 17

خطبات مسرور جلد سوم 17 خطبہ جمعہ 17 جنوری 2005ء خواہش فرمائی تھی کہ ایک لاکھ چندہ دہند ہوں۔تو اس وقت کوائف تو میرے پاس نہیں ہیں کہ پاکستان میں کتنے شامل ہوئے لیکن یہ صرف تحریک پاکستان کے لئے تھی اور وہاں سے آپ ایک لاکھ مانگ رہے تھے تو اب تو پوری دنیا میں حاوی ہے۔دنیا بھر میں جو مجموعی وصولی کے لحاظ سے بالترتیب پہلی دس جماعتوں کا بھی ذکر کیا جاتا ہے وہ میں بتا دیتا ہوں پہلے نمبر پہ امریکہ ہے، دوسرے پر پاکستان، تیسرے پرہ، برطانیہ چوتھے پر جرمنی پانچویں پر، کینیڈا ( میرا خیال ہے جو منی نیچے جارہا ہے ) چھٹے نمبر پہ ہندوستان ، ساتویں نمبر پہ انڈونیشیا ، آٹھویں پیجم ، نویں پر سوئٹزر لینڈ اور دسویں پر آسٹریلیا۔اس کے علاوہ فرانس ، ناروے، ہالینڈ، سویڈن، جاپان ، سعودی عرب اور ابوظہبی وغیرہ کی جماعتیں جو ہیں انہوں نے بھی کافی کوشش کی ہے۔اور پاکستان کی جماعتوں کا علیحدہ ذکر ہوتا ہے۔اس میں اول کراچی ہے، دوئم لا ہور ہے، سوئم ربوہ ہے۔کراچی اور لاہور کا تو مقابلہ رہتا ہے۔کاروباری لوگ بھی ہیں اور ملازم پیشہ بھی ہیں۔ہوسکتا ہے کہ ان کے کاروباروں میں فرق پڑا ہو لیکن پھر بھی کافی اضافہ ہے۔لیکن ربوہ میں اکثریت انتہائی کم آمدنی والوں کی ہے۔لیکن انہوں نے اپنی پوزیشن جو وہ اول دوئم لیتے ہیں، وہ برقرار رکھی ہوئی ہے۔پھر پاکستان میں بڑوں اور چھوٹوں کا ، بچوں کا علیحدہ حساب رکھا جاتا ہے جیسا کہ میں نے ذکر کیا تھا۔خلافت ثالثہ میں بچوں کے لئے علیحدہ انتظام شروع کیا گیا تھا۔تو اس لحاظ سے جو بڑوں کا چندہ وقف جدید ہے، بالغان کا اس میں راولپنڈی کا ضلع اول ہے۔سیالکوٹ ہے، پھر اسلام آباد ہے پھر فیصل آباد ہے، پھر گوجرانوالہ ہے، پھر میر پور خاص ہے، شیخو پورہ ہے، سرگودھا ہے، گجرات ہے، کوئٹہ ہے۔اور بچوں یعنی دفتر اطفال کا ہے۔اس میں جو ضلعے ہیں اسلام آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، راولپنڈی،شیخوپورہ، میر پورخاص، گجرات، فیصل آباد، نارووال اور بہاولنگر۔اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں کو جنہوں نے بڑھ چڑھ کر مالی قربانیوں میں حصہ لیا انہیں اپنی جناب سے بے انتہا اجر عطا فرمائے۔ان کے اموال و نفوس میں برکت عطا فرمائے ان کے اعمال کے باغ اور ان کے بیوی بچوں کے اعمال کے باغ ہرے بھرے اور پھلوں سے لدے رہیں اور وہ