خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 178 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 178

خطبات مسرور جلد سوم 178 خطبہ جمعہ 25 / مارچ 2005ء نازل فرمائی یہ منافقین اور معترضین کی باتوں کا جواب ہے کہ تم جو یہ کہتے ہو کہ یہ نبی بڑا سخت دل اور اپنی مرضی ٹھونسنے والا ہے، کسی کی بات نہیں سنتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ تعالی اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت سے تو ان کے لئے اتنا نرم دل واقع ہوا ہے کہ جس کی کوئی انتہا ہی نہیں ہے۔تو تو اپنوں کے لئے بھی مجسم رحمت ہے اور غیروں کے لئے بھی عفو اور درگزر کی تلاش میں رہتا ہے۔اور اتنا نرم دل واقع ہوا ہے کہ جس کی کوئی مثال نہیں دی جاسکتی۔تو اے نبی ! منافقین سے بھی صرف نظر کرتے ہوئے نرمی کا سلوک کرتا ہے اور دشمنوں سے بھی نرمی کا سلوک کرتا ہے اور نہ صرف نرمی کرتا ہے بلکہ ریاستی معاملات میں بھی مشورہ کر لیتا ہے۔قومی معاملات میں مشورہ بھی کر لیتا ہے۔چنانچہ ایک موقع پر رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی بن سلول کو بھی جنگ کی حکمت عملی طے کرنے کے لئے مشورے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شامل فرمایا تھا۔اور ان منافقین کی اس بات کو رد کرنے کے لئے یہ دلیل بھی کافی ہے کہ جس طرح پروانوں کی طرح تیرے اردگرد یہ ایمان والے اکٹھے رہتے ہیں اگر سخت دل ہوتا تو کبھی اس طرح اکٹھے نہ ہوتے بلکہ دور بھاگنے والے ہوتے۔اور آپ کی ہمدردی اور لوگوں کو اہمیت دینے نے جو بہت سے دور ہٹے ہوئے تھے ، جن کو منافقین نے خراب کیا ہوا تھا، وہ بھی نرمی اور اس حسن سلوک کی وجہ سے اپنی اصلاح کرتے ہوئے آپ کے قریب آگئے۔انہیں اللہ تعالیٰ نے قریب آنے کی توفیق دی۔اور منافقین کو یہ بھی جواب ہے کہ یہ نبی تو نہ صرف اس تعلیم کے مطابق مشوروں پر بہت زور دیتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کم علمی یا بشری کمزوریوں کی وجہ سے بعض غلط مشورے دینے والوں سے درگزر کا سلوک بھی کرتا ہے اور ان کے لئے بخشش اور مغفرت کی دعا بھی مانگتا ہے۔بہر حال یہ ہے جس کی وجہ سے ان کو اعتراض ہے کہ یہ اپنا فیصلہ بھی کرتا ہے۔نبی کو مشورے لینے کے بعد فیصلے کرنے کا اختیار ہے اور کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کا نبی ہے اس لئے جب تمام مشوروں کے بعد کسی کام کے کرنے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اسی پر توکل کرتا ہے۔پھر بہتر نتائج کی امید، اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان کی وجہ سے، اللہ تعالیٰ پر ہی رکھتا ہے۔اور یہی وہ عمل ہے جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو