خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 179
خطبات مسرور جلد سوم 179 خطبہ جمعہ 25 / مارچ 2005ء اللہ تعالیٰ کا محبوب بنایا ہوا ہے۔اور یہی وہ اسوہ ہے جس پر چلنے کے لئے درجہ بدرجہ اپنے دائرہ اختیار کے مطابق اللہ تعالیٰ نے امت کو بھی نصیحت فرمائی ہے۔نظام خلافت اور نظام جماعت کو بھی نصیحت فرمائی ہے۔اللہ تعالیٰ کا یہ حکم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شدت سے مشوروں کی طرف توجہ دینا یہ صرف اس لئے تھا ، اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ امت میں بھی مشوروں کی اہمیت اجاگر ہو ، امت کو بھی مشوروں کی اہمیت کا پتہ لگے۔چنا نچہ اس حدیث سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب شَاوِرْهُمْ فِي الأمْرِ کی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر چہ اللہ اور اس کا رسول اس سے مستغنی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے میری امت کے لئے رحمت کا باعث بنایا ہے۔پس ان میں سے جو مشورہ کرے گا وہ رشد و ہدایت سے محروم نہیں رہے گا۔اور جو مشورے کو ترک کرے گاوہ ذلت سے نہ بچ سکے گا۔“ (شعب الايمان للبيهقى - الحادي والخمسون من شعب الايمان وهو باب في الحكم بين الناس ) تو نہ تو اللہ تعالیٰ کو کسی بات کے فیصلے کے لئے مشورہ چاہئے۔اور پھر اللہ کا رسول ہے جس کو علاوہ قرآنی وحی کے بہت سی باتوں سے اللہ تعالیٰ وقت سے پہلے خود بھی آگاہ کر دیا کرتا تھا۔تو جن باتوں کے بارے میں مشورہ لیا جا رہا ہے یا جن باتوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشورے لیا کرتے تھے ان سے بھی اللہ تعالیٰ آگاہ کر سکتا تھا۔نبی کو کسی رائے کی ضرورت نہیں تھی بلکہ مشورے کی فضیلت بتانے کے لئے تا کہ امت بعد میں اس پر عمل پیرا ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشورے لیا کرتے تھے۔تو آپ نے بڑی وضاحت سے فرما دیا کہ میری تو اللہ تعالی رہنمائی فرما ہی دیتا ہے۔تم لوگ اگر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو سمیٹنا چاہتے ہو تو مشوروں کو ضرور پیش نظر رکھنا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کی اسی نصیحت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی اسوہ کی وجہ سے جماعت میں شوری کا نظام بھی رائج ہے اور دنیا کے ہر ملک میں اسی شورای کے نظام کی وجہ سے بھی ، اس نصیحت پر عمل کرنے کی وجہ سے جماعت اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی وارث بنتی نظر آتی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر جو مشورے لئے اس وقت میں ان کے کچھ