خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 168
خطبات مسرور جلد سوم 168 خطبہ جمعہ 18 / مارچ 2005ء جاؤں۔آپ اسے پورا کر دیجئے۔چنانچہ آپ اس کے ساتھ تشریف لے گئے اور اس کی ضرورت پوری کر کے واپس آئے اور پھر نماز پڑھائی۔“ (الادب المفرد للبخارى باب سخاوة النفس حديث نمبر (278) ایک روایت میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول کریم ع کے پاس دس درہم تھے۔کپڑے کا تاجر آیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے چار درہم میں ایک قمیص خریدی۔وہ چلا گیا تو آپ نے وہ قمیص زیب تن فرمائی اور پہن لی۔اچانک ایک حاجت مند آیا اس نے آ کر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! آپ مجھے قمیص عطا فرما ئیں اللہ تعالیٰ آپ " کو جنت کے لباس میں سے کپڑے پہنائے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی نئی قمیص اتار کر ا سے دے دی۔پھر آپ دکاندار کے پاس گئے اور اس سے ایک اور قمیص چار درہم میں خرید لی۔تو آپ کے پاس ابھی دو درہم باقی تھے۔راستے میں آپ کی نظر ایک لونڈی پر پڑی جو بیٹھی رو رہی تھی۔آپ نے پوچھا کیوں روتی ہو، کہنے لگی یا رسول اللہ ! مجھے مالکوں نے دو درہم کا آٹا خریدنے کے لئے بھیجا تھا اور وہ مجھ سے کہیں گر گئے ہیں۔تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دو درہم اسے دیئے کہ جاؤ آنا خرید لو۔پھر بھی وہ روتی جارہی تھی۔پھر آپ نے پوچھا اب کیوں روتی ہو؟ تو کہنے لگی کہ اس خوف سے کہ گھر والے دیر ہونے کی وجہ سے سزا نہ دیں۔تو اس پر آپ اس بچی کے ساتھ اس کے گھر تشریف لے گئے۔آپ نے سلام کیا۔پھر دوبارہ سلام کیا۔پھر تیسری دفعہ سلام کیا۔تو پھر گھر والوں نے جواباوعلیکم السلام کہا۔اس پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا تم نے پہلی بار سلام نہیں سنا تھا۔انہوں نے کہا ہاں یا رسول اللہ ! سن لیا تھا۔لیکن ہم چاہتے تھے کہ آپ ہمیں اور زیادہ سلام کریں۔ہمارے ماں باپ تو آپ کے مقابل پر کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔اس پر آپ نے فرمایا کہ مجھے اس لونڈی پر ترس آیا کہ کہیں تم اسے دیر سے آنے کی وجہ سے مارو نہ۔اس لئے میں اس کے ساتھ چلا آیا ہوں۔تو یہ سن کر لونڈی کے مالک نے کہا ہم اللہ کی خاطر اس کو آزاد کرتے ہیں کیونکہ آپ اس کے ساتھ تشریف لائے ہیں۔اس پر آپ نے انہیں جنت کی بشارت دی اور فرمایا کہ دیکھو دس درہموں میں اللہ تعالیٰ نے کتنی برکت ڈال دی ہے۔اپنے نبی کو