خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 169 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 169

خطبات مسرور جلد سوم 169 خطبہ جمعہ 18 / مارچ 2005ء قمیص پہنادی اور اس کے ذریعہ سے ایک انصاری شخص کو قمیص پہنا دی۔اور پھر اس کے ذریعہ سے ایک گردن بھی آزاد کرالی۔(مجمع الزوائد للهيثمي كتاب علامات النبوة) تو آپ لوگوں کی ضرورتیں پوری کر کے خوش ہوا کرتے تھے۔تو ایک آزادی ملنے پر تو خوشی کی انتہا نہیں تھی کہ کوئی غلام آزاد ہو جائے۔پھر حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بحرین کا مال لایا گیا۔تو آپ نے فرمایا کہ مسجد میں اس کا ڈھیر لگا دو اور یہ سب سے زیادہ مال تھا جو آنحضرت ﷺ کی زندگی میں لایا گیا۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے مسجد تشریف لائے تو مال کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔جب نماز سے فارغ ہوئے تو سارا مال تقسیم فرما دیا اور ایک درہم بھی باقی نہیں بچا۔اور اس وقت کوئی بھی ایسا شخص نہیں تھا جسے کچھ نہ کچھ ملا نہ ہو۔(بخارى كتاب الصلوة ، باب القسمة وتعليق القنو في المسجد) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدو نے ایک دفعہ آ کر اپنی ضرورت سے متعلق سوال کیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسب حال جو میسر تھا اسے عطا فرما دیا۔وہ اس پر سخت ناراض ہوا کہ میری ضرورت پوری نہیں ہو رہی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کی شان میں بڑی بے ادبی کے کلمات کہے۔تو صحابہ کرام کو اس پر بڑی غیرت آئی اور اس کی طرف مارنے کے لئے بڑھے۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو روک دیا۔اور آپ اس بدو کو اپنے ساتھ گھر میں لے گئے۔اور اس کو وہاں کھانا وغیرہ کھلایا، خاطر تواضع کی اور اس کو مزید انعام واکرام سے نوازا۔اور پھر اس سے پوچھا کہ کیا تم اب راضی ہو۔تو وہ خوش ہو کر بولا کہ اب تو میں کیا میرے قبیلے والے بھی آپ سے راضی اور خوش ہیں۔تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ میرے صحابہ کے سامنے جا کر بھی یہ اظہار کر دو۔کیونکہ تم نے ان کے سامنے میرے ساتھ سخت کلامی کر کے ان کی دل آزاری کی تھی۔اور جب اس نے صحابہ کے سامنے بھی اسی طرح اظہار کیا تو آپ نے فرمایا : میری مثال اس اونٹ کے مالک کی طرح ہے جو اپنے اڈیل