خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 167 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 167

خطبات مسرور جلد سوم 167 خطبہ جمعہ 18 / مارچ 2005ء دیئے ، پھر مزید سو اونٹ دیئے۔یعنی تین سو اونٹ دیئے۔وہ کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مجھے سب سے زیادہ نفرت تھی۔لیکن اس عنایت اور عطا نے میرے بغض کو محبت میں بدل دیا۔(مسلم - كتاب الفضائل - باب فی سخائه پھر حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور آپ نے ایک سخت کھردرے کناروں والی چادر اوڑھ رکھی تھی کہ ایک بد و آیا۔اس نے چادر سے پکڑ کر بڑی زور سے اپنی طرف کھینچا۔یہاں تک کہ آپ کی چادر سے آپ کے کندھوں پر نشان پڑ گئے۔پھر اس نے کہا اے محمد ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میرے ان دو اونٹوں پر اللہ کے اس مال میں سے لدوا دو جو تیرے پاس ہے۔اور جو مال تم مجھے دو گے وہ مال تمہارا یا تمہارے باپ کا نہیں ہے۔آپ اس کی یہ بات سن کر خاموش رہے اور پھر فرمایا کہ مال تو اللہ کا مال ہے اور میں اس کا بندہ ہوں۔پھر فرمایا کہ اے اعرابی جو سلوک تم نے میرے ساتھ کیا ہے یعنی یہ چادر کھینچی ہے اس کا تم سے بدلہ لیا جائے گا۔بد و کہنے لگا کہ ایسا نہیں ہوگا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں؟ وہ کہنے لگا کہ اس لئے کہ آپ " کبھی برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لیتے۔اس پر آپ مسکرا دیئے اور پھر آپ نے ایک شخص کو فرمایا کہ اس کو ایک اونٹ پر جو اور دوسرے پر کھجور میں لا ددو۔( الشفاء لقاضي عياض ، الباب الثانى ، الفصل الثاني عشر ، الحلم والعفو) | اب دیکھیں مانگنے والے کی کرختگی اور اجڈ پن لیکن آپ نے اس کو سامان دینے سے انکار نہیں کیا۔یہ فرمایا کہ یہ جو جاہلانہ رویہ تم نے اختیار کیا ہے اور چادر کھینچی ہے اس کی سزا تمہیں ملے گی۔اور یہ بھی شاید مذاق میں ہی کہا ہو۔لیکن اس بدو کے جواب پر کہ آپ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لیتے تو آپ فورا مسکرا دیئے۔اور یہ آپ کی نرم طبیعت ہی تھی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بدو لوگ آپ سے اس طرح مخاطب ہوا کرتے تھے۔ورنہ کب کوئی کسی دنیا دار حاکم کے سامنے اس طرح رویہ اختیار کر سکتا ہے۔ایک مرتبہ عین اقامت نماز کے وقت ایک بدو آیا۔نماز کھڑی ہونے لگی تھی۔آپ کا دامن پکڑ کر کہا کہ میری ایک معمولی سی ضرورت باقی رہ گئی ہے، خوف ہے کہ میں اس کو بھول نہ