خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 166 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 166

خطبات مسرور جلد سوم 166 خطبہ جمعہ 18 / مارچ 2005ء آئندہ جب کوئی آئے گا تو دے دیں گے یا اپنی ضرورتوں کے لئے استعمال ہو جائے گا۔نہیں، بلکہ فرمایا کہ میں اس وقت تک گھر نہیں جاؤں گا جب تک جو مال بھی پڑا ہے تقسیم نہ ہو جائے۔ضرورت مند تلاش کرو اور ان میں تقسیم کر دو۔پھر ایک روایت ہے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ حنین سے واپسی کے موقع پر کچھ بدو آپ کے پیچھے پڑ گئے۔وہ بڑے اصرار سے سوال کر رہے تھے۔جب آپ انہیں دینے لگے تو انہوں نے اتنا رش کیا کہ آپ کو مجبوراً ایک درخت کا سہارا لینا پڑا۔حتی کہ آپ کی چادر بھی چھین لی گئی۔آپ نے فرمایا میری چادر تو مجھے واپس دے دو۔پھر کیکروں کے بہت بڑے جنگل کی طرف اشارہ کیا (ایک درختوں کا جنگل تھا ) آپ نے فرمایا اگر اس وسیع جنگل کے برابر بھی میرے پاس اونٹ ہوں تو میں ان کو تقسیم کرنے میں خوشی محسوس کروں گا۔اور تم مجھے کبھی بخل سے کام لینے والا ، جھوٹ بولنے والا یا بز دلی دکھانے والا نہیں پاؤ گے۔صلى الله (بخارى - كتاب الفرض الخمس - باب ما كان النبي ﷺ يعطى المؤلفة قلوبهم) پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام کا واسطہ دے کر مانگا جاتا تو آپ حسب استطاعت ضرور دیتے۔ایک دفعہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور آپ نے اس کو بکریوں کا اتنا بڑا ریوڑ دیا کہ دو پہاڑوں کے درمیان کی وادی بھر گئی۔جب وہ بکریاں لے کر اپنی قوم میں واپس آیا تو آ کر کہا کہ اے لوگو! اسلام قبول کر لو محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم تو اس طرح دیتے ہیں جیسے غربت و احتیاج کا انہیں کوئی ڈر ہی نہیں۔(صحيح مسلم - كتاب الفضائل باب في سخانه ) ایک اور روایت ہے کہ جب آپ اس طرح لوگوں میں تقسیم کیا کرتے تھے تو اس دنیا حاصل کرنے کی وجہ سے لوگ ایمان لے آیا کرتے تھے۔اسلام قبول کر لیا کرتے تھے۔لیکن جب ایمان حاصل ہو جا تا تھا اسلام قبول کر لیتے تھے تو پھر ان کو مال سے زیادہ اسلام پیارا ہوتا تھا اور پھر وہ بھی قربانیوں میں لگ جایا کرتے تھے۔پھر غزوہ حنین کے دن ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان کو سو اونٹ دیئے ، پھر سو اونٹ