خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 159
خطبات مسرور جلد سوم 159 (10) خطبہ جمعہ 18 / مارچ 2005ء آنحضرت صل اللہ وسلم کا خلق عظیم جود و سخا خطبه جمعه فرمودہ 18 / مارچ 2005ء بمقام مسجد بیت الفتوح۔مورڈن، لندن۔تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔عام طور پر دنیا میں ایک دنیا دار انسان دولت کی خواہش کرتا ہے، دولت جمع کرنے کی کوشش کرتا ہے تا کہ دنیا داروں میں اپنا ایک مقام بنائے۔اپنی دولت سے دوسروں کو مرعوب کرے۔اپنے لئے آرام و آسائش کے سامان مہیا کرے۔اپنے لئے آرام دہ رہائش اور آرام دہ سواریوں کا انتظام کرے۔اپنے بیوی بچوں کے لئے دولت کے انبار چھوڑ کر جائے تا کہ وہ بھی اس کے بعد آسائش کی زندگی گزار سکیں۔اور اس میں بھی ایک چھپی ہوئی خواہش ہوتی ہے کہ میرے مرنے کے بعد لوگ یہی کہیں گے کہ فلاں امیر آدمی مرنے کے بعد اتنی دولت چھوڑ کر مرا۔اور اس کی اولا داشتنی دولت میں کھیل رہی ہے۔یہ تو ہیں ظاہری دنیا داروں کی باتیں۔ہر ایک کو نظر آرہے ہوتے ہیں۔لیکن کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو اپنے خیال میں انسانیت کے ہمدرد اور غمخوار ہوتے ہیں، جو انسانی ضرورتوں کے پورا کرنے کے نعرے لگا رہے ہوتے ہیں۔لیکن ان کے عمل بھی ان دنیا داروں سے کوئی مختلف نہیں ہورہے ہوتے ، صرف ظاہری نعرے اور دعوے ہی ہوتے ہیں۔کیونکہ کبھی بھی اپنے مفاد کی قربانی کرتا ہوا ان میں سے کوئی بھی نظر نہیں آئے گا۔لیکن دولت کے ملنے پر اور پھر اس کے خرچ کرنے کے جو طریقے ہیں اس بارے میں جو اُسوہ حسنہ آنحضرت