خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 160 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 160

خطبات مسرور جلد سوم 160 خطبہ جمعہ 18 / مارچ 2005ء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لئے قائم فرمایا ہے اس کی مثالیں آپ کی زندگی کا ہی حصہ ہیں۔یہ تو بعض دفعہ ہو جاتا ہے کہ دنیا کے دکھاوے کے لئے جیسا کہ میں نے کہا لوگ ہمدردی کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں اور اس کی خاطر پھر بعض لوگ اپنی طرف سے سخاوت کا اظہار بھی کر دیتے ہیں، لوگوں کے لئے خرچ بھی کر دیتے ہیں۔لیکن یہ وقتی جذ بہ ہوتا ہے۔لیکن صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اور لوگوں کی تکلیفوں کو دور کرنے اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ان کا احساس کرتے ہوئے یہ جو دوسخا کے نظارے ہمیں صرف اور صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی نظر آئیں گے۔یہ معیار نہ کبھی اس سے پہلے قائم ہوئے اور نہ قائم ہوں گے۔بہر حال ایک اسوہ حسنہ ہے جو آپ نے ہمارے لئے قائم فرمایا۔جہاں آپ رات دن اس فکر میں رہتے تھے کہ لوگ ایک خدا کو پہچانیں، روحانیت میں ترقی کریں۔وہاں اپنی آسائش اور اپنے آرام کی فکر نہیں تھی بلکہ ایک یہ بھی فکر تھی کہ لوگوں کی ضروریات کس طرح پوری ہوں۔اپنے بیوی بچوں کے آرام و آسائش کی کوئی فکر نہیں تھی بلکہ ان کو بھی یہ تعلیم تھی اور یہی تربیت کی کہ دوسروں کے لئے اپنے ہاتھ کو کھولو اور اپنے دل کو کھولو۔اور ان کوخود یہی تلقین تھی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنے پر زیادہ زور دو، بجائے اس کے کہ مال جمع کرنے اور اکٹھا کرنے پر زور ہو، اپنی آرام و آسائش پر زور ہو کیونکہ یہی چیز ہے جو آخری زندگی میں تمہارے کام آئے گی۔تو جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ جو دوسخا، لوگوں کی خاطر خرچ کرنا ، قربانی کر کے خرچ کرنا یہ بھی آپ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے ہمدردی میں کرتے تھے۔اور اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہونے کے لئے کرتے تھے۔آپ ہی کی ذات ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کے اعلیٰ معیار جو کسی انسان میں ہو سکتے ہیں نظر آتے ہیں۔پس اس جو دوسخا کے نمونے بھی خدا تعالیٰ کی ذات کے بعد اگر کسی انسان میں نظر آ سکتے ہیں تو وہ اسی انسان کامل کی ذات ہے۔آپ کو پتہ تھا کہ خدا تعالیٰ کی صفات کا سب سے بڑا مظہر میں ہوں۔اور یہ جود وسخا بھی ( یہ بھی ایک خلق ہے، کوئی اس سے باہر نہیں) چنانچہ آپ نے خود فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمام سخاوت کرنے والوں سے بڑھ