خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 157 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 157

خطبات مسرور جلد سوم 157 خطبہ جمعہ 11 / مارچ 2005ء تواضع کی بدولت جو آپ نے اس کے لئے اختیار کی یہ انعام عطا کیا ہے کہ آپ قیامت کے روز تمام بنی آدم کے سردار ہوں گے۔سب سے اول حشر بھی آپ کا ہو گا۔سب سے پہلے شفیع بھی آپ ہوں گے۔(كتاب الشفاء للقاضي عياض - الباب الثاني - الفصل التاسع عشر - تواضعه - حجۃ الوداع کے موقع پر جو آپ نے دعا کی اس کے الفاظ یہ تھے۔اے اللہ ! تو میری باتوں کو سنتا ہے اور میرے حال کو دیکھتا ہے۔میری پوشیدہ باتوں اور ظاہر امور سے خوب واقف ہے۔میرا کوئی بھی معاملہ تجھ پر کچھ بھی تو مخفی نہیں ہے میں ایک بد حال فقیر اور محتاج ہی تو ہوں۔تیری مدد اور پناہ کا طالب ہوں ، سہما اور ڈرایا ہوا ، اپنے گناہوں کا اقراری اور معترف ہو کر تیرے پاس چلا آیا ہوں۔میں تجھ سے ایک عاجز مسکین کی طرح سوال کرتا ہوں۔ہاں تیرے حضور میں ایک ذلیل گناہگار کی طرح زاری کرتا ہوں۔ایک اندھے نابینے کی طرح ٹھوکروں سے خوفزدہ تجھ سے دعا کرتا ہوں۔میری گردن تیرے آگے جھکی ہوئی ہے اور میرے آنسو تیرے حضور بہہ رہے ہیں۔میرا جسم تیرا مطیع ہو کر سجدے میں گرا پڑا ہے اور ناک خاک آلود ہے۔اے اللہ تو مجھے اپنے حضور دعا کرنے میں بدبخت نہ ٹھہرا دینا اور میرے ساتھ مہربانی اور رحم کا سلوک فرمانا۔اے وہ جو سب سے بڑھ کر التجاؤں کو قبول کرتا ہے اور سب سے بہتر عطا فرمانے والا ہے۔(مجمع الزوائد للهيثمي - كتاب الحج - باب في العرفة والوقوف بها دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتنی تسلیاں اور انعامات ملنے کے باوجود قرآن کریم میں کئی جگہ ان کا ذکر ہے۔اس بات کو ہمیشہ پیش نظر رکھا کہ میں ہوں تو اللہ کا ایک بندہ ہی۔ہوں تو ایک بشر ہی اس لئے آخر تک اس عاجزی کے ساتھ اپنے خدا سے اس کا رحم اور فضل مانگتے رہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ” خدا کی رضا میں فانی لوگ نہیں چاہتے کہ ان کو کوئی درجہ اور امامت دی جاوے۔وہ ان درجات کی نسبت گوشہ نشینی اور تنہا عبادت کے مزے لینے کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔مگر ان کو