خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 156
خطبات مسرور جلد سوم 156 خطبہ جمعہ 11 / مارچ 2005ء کی جو کیفیت تھی اس کا اظہار بھی بے اختیار آپ کے عمل سے ہو گیا۔اس عمل کا نقشہ تاریخ نے یوں کھینچا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب دس ہزار قد وسیوں کے جلو میں فاتحانہ شان سے مکہ میں داخل ہوئے وہ دن آپ کے لئے بہت خوشی اور مسرت اور عظمت کے اظہار کا دن تھا۔مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے ان فضلوں کے اظہار پر خدا کی راہ میں بچھے جاتے تھے۔خدا نے جتنا بلند کیا آپ انکساری میں اور بڑھتے جا رہے تھے۔یہاں تک کہ جب مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کا سر جھکتے جھکتے اونٹ کے کجاوے سے جالگا۔جس کجاوہ پر بیٹھے ہوئے تھے اس کے آگے ابھرے ہوئے حصے سے جالگا اور اللہ تعالیٰ کے نشانوں پر اس کی حمد و ثنا میں مشغول تھے۔(السيرة النبوية لابن هشام - ذكر فتح مكة - باب وصول النبي الى ذى طوى ) | حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں: علو جو خدا تعالیٰ کے خاص بندوں کو دیا جاتا ہے ، یعنی بلندی اور اعلیٰ مقام ” وہ انکسار کے رنگ میں ہوتا ہے۔اور شیطان کا عُلُو استکبار سے ملا ہوا تھا یعنی شیطان کی بلندی تکبر میں ہوتی ہے۔”دیکھو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ کو فتح کیا تو آپ نے اسی طرح اپنا سر جھکایا اور سجدہ کیا جس طرح ان مصائب اور مشکلات کے دنوں میں جھکاتے اور سجدے کرتے تھے جب اسی مکہ میں آپ کی ہر طرح سے مخالفت کی جاتی اور دکھ دیا جاتا تھا جب آپ نے دیکھا کہ میں کس حالت میں یہاں سے گیا تھا اور کس حالت میں اب آیا ہوں تو آپ کا دل خدا کے شکر سے بھر گیا اور آپ نے سجدہ کیا۔(ملفوظات جلد 2 صفحه 404 حاشیه جدید ایڈیشن - الحکم /31 اکتوبر 1902ء صفحه (7) پس یہ ہے عاجزی کی وہ اعلیٰ ترین مثال جو طاقت و فتح حاصل کر لینے کے بعد آپ نے دکھائی۔اور پھر اللہ تعالیٰ نے بھی آپ کی اس عاجزی کو کس طرح انعامات سے نوازا۔ایک روایت میں آتا ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اسرافیل نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس