خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 123
خطبات مسرور جلد سوم 123 خطبہ جمعہ 25 فروری 2005ء آپ کا ہر قول، ہر فعل خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے تھا۔ایک تو ہر کام میں آسان راستہ تلاش کرتے۔دوسرے آسان اور مشکل راستے کا فیصلہ اس سوچ سے فرماتے کہ اللہ تعالیٰ کا کیا حکم ہے، اس کی رضا کیا ہے۔اور پھر اگر کسی سے انتقام لیا بھی تو اپنی ذات کے لئے نہیں لیا بلکہ اللہ تعالیٰ کی غیرت کی خاطر لیا۔آپ کی غذا بھی نہایت سادہ تھی۔لیکن اچھا کھانا میسر آتا تو وہ بھی پسند فرمایا کرتے تھے۔حضرت انس ایک دعوت کا ذکر کرتے ہیں کہ آپ ایک دعوت میں تشریف لے گئے۔کہتے ہیں میں بھی ساتھ تھا۔اس دعوت میں جو کی روٹی اور کدو گوشت کا سالن پیش کیا گیا۔راوی کہتے ہیں چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو پسند تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم شور بے میں سے کدو تلاش کر کر کے نوش فرماتے رہے۔اس لئے مجھے بھی کدو سے رغبت ہو گئی۔(شـمـــائــل تــــرمــذى- باب ما جاء في صفة ادام رسول الله صلى الله اگر آج کسی دعوت میں کسی کو کد و گوشت کھلائیں تو شاید مذاق اڑنا شروع ہو جائے۔اس زمانے میں تو ایسے حالات تھے کئی کئی دن فاقوں میں گزرتے تھے۔پھر حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھانے میں میٹھی چیز اور شہد پسند فرمایا کرتے تھے ، آپ کو میٹھا پسند تھا۔(بخاری کتاب الأطعمة - باب الحلوى والعسل) حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل خانہ اکثر کئی کئی راتیں بھوک میں گزار دیا کرتے تھے۔(شمائل ترمذی باب ما جاء فى صفة اكل رسول الله ﷺ تو جیسا کہ پسند کا ذکر آیا ہے، میٹھا کھانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میٹھا ہوگا تو کھاؤں گا، نہیں ہو گا تو نہیں کھاؤں گا۔فلاں چیز پکے گی تو کھاؤں گا اور وہ ضرور ملے۔اگر مل گیا تو احمد اللہ اور اگر نہیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف بھوک برداشت کرنے کی تلقین ہی نہیں فرمائی بلکہ عملاً یہ کر کے دکھایا۔بعض دفعہ یہ بھی ہوتا تھا کہ پوچھتے ہیں گھر میں کچھ کھانے کو ہے۔اگر جواب نہیں، میں ملتا تو کہتے اچھا ٹھیک ہے آج روزہ رکھ لیتے ہیں۔اور یہ روزے بھی