خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 122 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 122

خطبات مسرور جلد سوم 122 خطبہ جمعہ 25 فروری 2005ء آپ نے چاہا اس عالم میں تشریف لائے۔عطاء بن یسار سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمرو بن عاص سے ملا اور کہا کہ آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ نشانیاں بتائیں جو تو رات میں مذکور ہیں۔انہوں نے کہا ٹھیک ہے اور پھر فرمایا خدا کی قسم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض صفات تورات میں بھی وہی مذکور ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔مثلاً یہ آیت يَا يُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَكَ شَاهِدًا (الاحزاب : 45) یعنی اے نبی ہم نے تجھے بطور شاہد کے اور مبشر اور نذیر کے بھیجا ہے۔نیز امیوں کے لئے حفاظت کا ذریعہ بنایا ہے۔تو میرا بندہ اور میرا رسول ہے۔میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے۔نیز نہ تو تو بد خلق ، درشت کلام ہے اور نہ سخت دل۔اور نہ ہی بازاروں میں شور مچانے والا ہے۔بدی کا بدلہ بدی سے نہیں دیتا بلکہ درگزر کرتا اور معاف کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس وقت تک اسے وفات نہیں دے گا جب تک کہ وہ اس کے ذریعے سے ایک ٹیڑھی قوم کو راہ راست پر قائم نہ کر دے۔(بخاری - کتاب التفسير - سورة الفتح - باب انا ارسلناك شاهد۔۔۔) پس دیکھیں کس طرح یہ باتیں سچی ثابت ہوئی ہیں۔دنیا دار لوگ اگر کوئی بھی نیکی کریں یا مثلا نیکیوں کا اظہار کرنے والے لوگ۔اگر کوئی نیکی کرے یا نیکی کرنے کی کوشش کریں تو نیکی کے اظہار کے لئے وقتی طور پر یہ ہوتا ہے کہ مشکل راستہ اختیار کیا جائے۔وقتی طور پر اس لئے کہ ان میں مستقل مزاجی تو ہوتی نہیں۔دکھاوے کی نیکیاں ہوتی ہیں۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ کیا ہے۔اس بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دو معاملات میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کا حق دیا جاتا تو آپ ہمیشہ آسان کو اختیار فرماتے بشرطیکہ گناہ نہ ہو۔اور اگر آسان معاملے میں گناہ کا اندیشہ ہوتا تو آپ تمام لوگوں سے اس معاملے میں سب سے زیادہ دور اور محتاط ہوتے۔آپ نے اپنی ذات کے لئے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا۔سوائے اس کے کہ اگر کوئی اللہ کی بے حرمتی کرتا تو آپ اللہ کے لئے اس سے انتقام لیتے۔(بخارى- كتاب المناقب - باب صفة النبي