خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 124 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 124

خطبات مسرور جلد سوم 124 خطبہ جمعہ 25 فروری 2005ء اکثر اوقات آٹھ پہرے ہوتے تھے۔یعنی ایک رات کو کھایا ہے تو اگلے دن 24 گھنٹے بعد رات کو روزہ افطار کیا ہے۔جنگ خندق میں جب صحابہ نے بھوک کی وجہ سے خالی پیٹ پر پتھر باندھے ہوئے تھے۔آپ کو دکھائے تو آپ نے بھی اپنا کپڑا اٹھا کر دکھایا کہ تمہارا ایک پتھر بندھا ہوا ہے، میرے دو پتھر بندھے ہوئے ہیں۔غرض اگر کبھی صحابہ کسی مشکل میں گرفتار ہوئے تو سب سے بڑھ کر اس مشکل میں آپ نے خود اپنے آپ کو ڈالا ہے تا کہ نمونے قائم کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھو کہ آپ کی نبوت کے زمانہ میں سے تیرہ سال مصائب اور شدائد کے تھے اور دس سال قوت و ثروت اور حکومت کے۔مقابل میں کئی قو میں۔اول تو اپنی ہی قوم تھی۔یہودی تھے۔عیسائی تھے۔بت پرست قوموں کا گروہ تھا۔مجوس تھے وغیرہ ، جن کا کام کیا ہے؟ بت پرستی ، جو ان کا حقیقی خدا کے اعتقاد سے پختہ اعتقاد اور مسلک تھا۔وہ کوئی کام کرتے ہی نہ تھے جو بتوں کی عظمت کے خلاف ہو۔شراب خوری کی یہ نوبت کہ دن میں پانچ مرتبہ یا سات مرتبہ شراب بلکہ پانی کی بجائے شراب ہی سے کام لیا جا تا تھا۔حرام کو تو شیر مادر جانتے تھے۔اور قتل وغیرہ تو ان کے نزدیک ایک گاجر مولی کی طرح تھا۔غرض گل دنیا کی اقوام کا نچوڑ اور گندے عقائد کا عطر ان کے حصہ میں آیا ہوا تھا۔اس قوم کی اصلاح کرنی اور پھر ان کو درست کرنا اور پھر اس پر زمانہ وہ کہ یکہ و تنہا بے یارو مددگار پھرتے ہیں۔کبھی کھانے کو ملا اور کبھی بھو کے ہی سور ہے۔جو چند ایک ہمراہی ہیں ان کی بھی ہر روز بُری گت بنتی ہے۔بے کس اور بے بس۔ادھر کے اُدھر اور اُدھر کے ادھر مارے مارے پھرتے ہیں۔وطن سے بے وطن کر دیئے گئے ہیں۔پھر دوسرا زمانہ تھا کہ تمام جزیرہ عرب ایک سرے سے دوسرے سرے تک غلام بنا ہوا ہے۔کوئی مخالفت کے رنگ میں چوں بھی نہیں کر سکتا۔اور ایسا اقتدار اور رعب خدا نے دیا ہوا ہے کہ اگر چاہتے تو کل عرب کو قتل کر ڈالتے۔اگر ایک نفسانی انسان ہوتے تو ان سے ان کی کرتوتوں