خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 114
خطبات مسرور جلد سوم 114 خطبہ جمعہ 25 فروری 2005ء ٹوکتے نہ تھے۔اگر کوئی شخص آپ کے پاس ایسے وقت میں آجاتا کہ آپ نماز میں مشغول ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو مختصر فرما دیا کرتے تھے۔اس کی ضرورت کو پوری کرنے کے بعد پھر نماز میں مشغول ہو جایا کرتے تھے۔نزول قرآن ، وعظ و نصیحت اور خطبہ کے وقت کے علاوہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ متبسم اور ہشاش بشاش نظر آتے تھے۔(الشفاء لقاضي عياض - الباب الثاني - الفصل السادس عشر حسن عشرته دیکھیں اتنے بوجھ ، اتنی ذمہ داریاں ، اتنی فکر میں، دشمنوں کی طرف سے بے شمار چر کے اور تکلیفیں ، ان باتوں کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے اپنے رب کے حضور حاضر ہیں لیکن جب کوئی ملنے آگیا تو اعلیٰ اخلاق کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی بات پہلے سن لی جائے۔فوراً عبادت کو مختصر کیا اور مسکراتے ہوئے تشریف لے آئے کہ ہاں بتاؤ کیا حاجت ہے، کیا ضرورت ہے۔تو یہ سب کچھ اس لئے برداشت کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی تعلیم کے مطابق یہ اعلیٰ اخلاق دنیا میں قائم کرنے ہیں، لوگوں کے لئے نمونہ بننا ہے۔پھر دیکھیں وہ نظارہ کہ لوگ لائنوں میں لگے کھڑے ہیں کہ تبرک حاصل کر لیں اور آپ بڑی خوش اخلاقی کے ساتھ ان کی اس خواہش کو پورا فرما رہے ہیں اور ان میں بھی بہت بڑا طبقہ بچوں اور غرباء پر مشتمل ہوتا تھا۔چنانچہ حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ مدینہ منورہ کے رہنے والے خدمت گزار اپنے برتنوں میں پانی بھر کر لاتے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز سے فارغ ہو کر ان کے برتنوں میں ہاتھ ڈبوتے حالانکہ بسا اوقات صبح کے وقت سخت سردی بھی ہوا کرتی تھی۔یہ لوگ برکت کی خاطر ایسا کرتے تھے، کہ پانی کا تبرک لے کر جائیں۔(الشفاء لقاضي عياض - الباب الثاني - الفصل السادس عشر حسن عشرته۔پھر دیکھیں گھر میں کیا زندگی تھی۔ایک آواز پر سارا شہر بخوشی آپ کی خدمت کے لئے دوڑا چلا آتا، اکٹھا ہوسکتا تھا، جمع ہوسکتا تھا لیکن کیونکہ اعلیٰ نمونے قائم کرنے تھے اس لئے اپنے ذاتی کاموں میں کسی سے مد نہیں لی۔