خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 115
خطبات مسرور جلد سوم 115 خطبہ جمعہ 25 فروری 2005ء ہشام بن عروہ اپنے والد حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کسی شخص نے پوچھا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کوئی کام کاج کیا کرتے تھے؟ حضرت عائشہ نے کہا: ہاں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جوتی خود مرمت کر لیتے تھے، اپنا کپڑ اسی لیتے تھے اور اپنے گھر میں اسی طرح کام کیا کرتے تھے جس طرح تم سب لوگ اپنے گھروں میں کام کرتے ہو۔(مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحه 167 مطبوعه بيروت) آج کل دیکھیں 99 فیصد مرد ایسے ہیں کہ اگر قمیص کا بٹن ٹوٹ گیا ہو یا کوئی ٹانکا اکھڑا ہو تو بیویوں کے ناک میں دم کیا ہوتا ہے۔آپ خود لگا لیا کرتے تھے۔بلکہ بعض دفعہ تو گھر میں جھاڑو بھی دے لیا کرتے تھے۔آپ کی سادگی اور اعلیٰ اخلاق کی تصویر ایک اور روایت میں ذرا تفصیل سے اس طرح کھینچی گئی ہے۔حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بڑی سادہ تھی۔آپ کسی کام کو عار نہیں سمجھتے تھے۔اپنے اونٹ کو خود چارہ ڈالتے ، گھر کا کام کاج کرتے ، اپنی جوتیوں کی مرمت کر لیتے، کپڑے کو پیوند لگا لیتے ، بکری کا دودھ دوہ لیتے ، خادم کو اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلاتے۔آٹا پیتے ہوئے اگر وہ تھک جاتا تو اس میں اس کی مدد کرتے۔بازار سے گھر کا سامان اٹھا کر لانے میں شرم محسوس نہ کرتے۔امیر غریب ہر ایک سے مصافحہ کرتے۔سلام میں پہل کرتے۔اگر کوئی معمولی کھجوروں کی دعوت دیتا تو آپ اسے حقیر نہ سمجھتے اور قبول کرتے۔آپ نہایت ہمدرد، نرم مزاج اور حلیم الطبع تھے۔آپ کا رہن سہن بہت صاف ستھرا تھا۔بشاشت سے پیش آتے۔تبسم آپ کے چہرے پر چھلکتا رہتا۔آپ زور کا قہقہ لگا کر نہیں بنتے تھے۔خدا کے خوف سے فکر مند رہتے تھے لیکن ترش روئی اور خشکی نام کو نہ تھی۔منکسر المزاج تھے لیکن اس میں بھی کسی کمزوری ، پس ہمتی کا شائبہ تک نہ تھا۔بڑے بھی تھے لیکن بے جا خرچ سے ہمیشہ بچتے۔نرم دل رحیم و کریم تھے۔ہر مسلمان سے مہربانی سے پیش آتے۔اتنا پیٹ بھر کر نہ کھاتے کہ ڈکار لیتے رہیں۔کبھی حرص وطمع کے جذبہ سے ہاتھ نہ بڑھاتے بلکہ صابر وشاکر اور کم پر قانع رہتے۔(الرسالة القشيرية ، باب الخشوع والتواضع)