خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 113 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 113

خطبات مسرور جلد سوم 113 خطبہ جمعہ 25 فروری 2005ء یہ ایسے شخص کا چہرہ ہے جو یقینا سچا اوراللہ تعالیٰ کے خلق پر قائم ہے۔آپ کی مجالس کی خوبصورتیاں اور حسن سلوک کے نظارے اب دیکھیں۔حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھے اخلاق کا مالک کوئی بھی نہیں تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ یا اہل خانہ میں سے جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا تا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فور اس کی بات کا جواب دیتے اور حضرت جریر بن عبداللہ نے بتایا کہ میں نے جب سے اسلام قبول کیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی مجھے دیکھایا نہیں بھی دیکھا مگر میں نے ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کومسکراتے ہوئے ہی پایا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ مزاح بھی فرمایا کرتے تھے اور ان میں گھل مل جاتے تھے۔اور ان سے باتیں بھی کرتے تھے اور ان کے بچوں سے خوش طبعی بھی فرماتے تھے۔( یعنی ہنسی مذاق کی باتیں بھی کیا کرتے تھے )۔انہیں اپنی آغوش میں بھی بٹھا لیتے تھے اور ہر ایک کی پکار کا جواب بھی دیتے تھے۔ہر ایک جو بلاتا تھا اس کا جواب بھی دیتے تھے خواہ وہ آزاد ہو ( ایک آزاد آدمی ہو ) یا غلام ہو ( یا لونڈی ہو ) یا مسکین ہو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم شہر کے دور کے حصے میں بھی مریض کی عیادت کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے اور معذور کا عذر قبول فرمالیا کرتے تھے۔(الشفاء لقاضي عياض - الباب الثاني - الفصل السادس عشر - حسن عشرته صل الله پھر حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص بات کرنے کے لئے آپ کے کان سے منہ لگا تا تو آپ کسر کو پیچھے نہ ہٹاتے تھے یہاں تک کہ وہ خود پیچھے ہٹ جاتا۔جب بھی کسی نے آپ کے دست مبارک کو پکڑا تو آپ نے کبھی اپنا ہاتھ نہ چھڑایا جب تک وہ خود نہ چھوڑ دیتا۔صحابہ کرام سے مصافحہ کرنے میں آپ پہل فرمایا کرتے تھے۔جب بھی کو ئی شخص ملتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہلے سلام کرتے۔اپنے ساتھیوں کے درمیان پاؤں پھیلا کر نہیں بیٹھتے تھے جس سے دوسروں کو تنگی ہو۔جو شخص آپ کے پاس حاضر ہوتا آپ اس کی عزت کرتے اور بعض اوقات اس کے لئے کپڑا بچھا دیتے یا وہی تکیہ دے دیتے جو آپ کے پاس ہوا کرتا تھا اور آپ اصرار فرمایا کرتے تھے کہ وہ اس پر بیٹھے۔صحابہ کو ان کی کنیت اور ان کے پسندیدہ ناموں سے بلایا کرتے تھے۔کسی کی بات کو