خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 86
خطبات مسرور 86 میں ایسے خیالات آتے ہیں وہ اپنی اصلاح کی کوشش کریں اور استغفار کریں۔$2004 ان آیات میں جن باتوں کا ذکر کیا گیا ہے ان کو میں مزید کھولتا ہوں۔سب سے پہلے تو مردوں کو حکم ہے کہ: - غض بصر سے کام لیں۔یعنی اپنی آنکھ کواس چیز کو دیکھنے سے روکے رکھیں جس کا دیکھنا منع ہے۔یعنی بلا وجہ نامحرم عورتوں کو نہ دیکھیں۔جب بھی نظر اٹھا کر پھریں گے تو پھر تجس میں آنکھیں پیچھا کرتی چلی جاتی ہیں اس لئے قرآن شریف کا حکم ہے کہ نظریں جھکا کے چلو۔اسی بیماری سے بچنے کے لئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ نیم وا آنکھوں سے چلو۔یعنی ادھ کھلی آنکھوں سے، راستوں پر پوری آنکھیں پھاڑ کر نہ چلو۔بند بھی نہ ہوں کہ ایک دوسرے کو ٹکریں مارتے پھرو۔لیکن اتنی کھلی ہوں کہ کسی بھی قسم کا تجسس ظاہر نہ ہوتا ہو کہ جس چیز پر ایک دفعہ نظر پڑ جائے پھر اس کو دیکھتے ہی چلے جانا ہے۔نظر کس طرح ڈالنی چاہئے اس کی آگے حدیث سے وضاحت کروں گا۔لیکن اس سے پہلے علامہ طبری کا جو بیان ہے وہ پیش کرتا ہوں۔وہ کہتے ہیں کہ غض بصر سے مراد اپنی نظر کو ہر اس چیز سے روکنا ہے جس سے اللہ تعالی نے روکا ہے۔( تفسیر الطبری جلد ۱۸ صفحہ ۱۱۷،۱۱۶) تو مردوں کے لئے تو پہلے ہی حکم ہے کہ اپنی نظریں نیچی رکھو۔اور اگر مرد اپنی نظریں نیچی رکھیں گے تو بہت سی برائیوں کا تو یہیں خاتمہ ہو جاتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ہر ایک پرہیز گار جو اپنے دل کو پاک رکھنا چاہتا ہے اس کو نہیں چاہئے کہ حیوانوں کی طرح جس طرف چاہے۔بے محابا نظر اُٹھا کر دیکھ لیا کرے بلکہ اس کے لئے اس تمدنی زندگی میں غض بصر کی عادت ڈالنا ضروری ہے اور یہ وہ مبارک عادت ہے جس سے اس کی یہ طبعی حالت ایک بھاری خلق کے رنگ میں آجائے گی۔(رپورٹ جلسه اعظم مذاهب صفحه ۱۰۳،۱۰۲ ـ بحواله تفسیر حضرت مسیح موعود عليه السلام جلد سوم صفحہ ٤٤٤)