خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 87
$2004 87 مسرور پھر مومن عورتوں کے لئے حکم ہے کہ غض بصر سے کام لیں اور آنکھیں نیچی رکھا کریں۔اگر عورت اونچی نظر کر کے چلے گی تو ایسے مرد جن کے دلوں پر شیطان نے قبضہ کیا ہوا ہے وہ تو پھر ان عورتوں کے لئے مشکلات ہی پیدا کرتے رہیں گے۔تو ہر عورت کو چاہئے کہ اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو بدنامی سے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ کا جو حکم ہے غض بصر کا، اس پر عمل کرے تا کہ کسی بھی قسم کی بدنامی کا باعث نہ ہو۔کیونکہ اس قسم کے مرد جن کے دلوں میں کبھی ہو، شرارت ہوتو وہ بعض دفعہ ذراسی بات کا بتنگڑ بنا لیتے ہیں اور پھر بلاوجہ کے تبصرے شروع ہو جاتے ہیں۔اسی لئے آنحضرت ﷺ نے اپنی بیویوں کو یہاں تک فرمایا تھا کہ اگر مخنث آئے تو اس سے بھی پردہ کرو۔ہوسکتا ہے کہ یہ باہر جا کر دوسرے مردوں سے باتیں کرے اور اس طرح اشاعت فحش کا موجب ہو۔تو دیکھیں آنحضرت ﷺ نے کس حد تک پابندی لگائی ہے۔کجا یہ کہ جوان مرد جن کے دل میں کیا کچھ ہے ہمیں نہیں پتہ، ان سے نظر میں نظر ڈال کر بات کی جائے یاد یکھا جائے۔بلکہ یہ بھی حکم ہے کہ کسی مجبوری کی وجہ سے کسی مرد سے بات کرنے کی ضرورت پیش آجائے تو ایسا لہجہ ہونا چاہئے جس میں تھوڑی سی خفگی ہو ، ترشی ہوتا کہ مرد کے دل میں کبھی کوئی برا خیال نہ پیدا ہو۔تو اس حد تک سختی کا حکم ہے اور بعض جگہوں پر ہمارے ہاں شادیوں وغیرہ پر لڑکوں کوکھاناServe کرنے کے لئے بلا لیا جاتا ہے۔دیکھیں کہ سختی کس حد تک ہے اور کجا یہ ہے کہ لڑکے بلا لئے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ چھوٹی عمر والے ہیں حالانکہ چھوٹی عمر والے بھی جن کو کہا جاتا ہے وہ بھی کم از کم ۱۸،۱۷ سال کی عمر کے ہوتے ہیں۔بہر حال بلوغت کی عمر کوضرور پہنچ گئے ہوتے ہیں۔وہاں شادیوں پر جوان بچیاں بھی پھر رہی ہوتی ہیں اور پھر پتہ نہیں جو بیرے بلائے جاتے ہیں کس قماش کے ہیں تو جیسا کہ میں نے کہا ہے بلوغت کی عمر کو پہنچ چکے ہوتے ہیں اور ان سے پردے کا حکم ہے۔اگر چھوٹی عمر کے بھی ہیں تو جس ماحول میں وہ بیٹھتے ہیں، کام کر رہے ہوتے ہیں ایسے ماحول میں بیٹھ کر ان کے ذہن بہر حال گندے ہو چکے ہوتے ہیں۔اور سوائے کسی استثناء کے الا ماشاء اللہ، اچھی زبان ان کی نہیں