خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 85 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 85

85 $2004 خطبات مسرور کے لئے یا اپنے باپوں یا اپنے خاوندوں کے باپوں یا اپنے بیٹوں کے لئے یا اپنے خاوندوں کے بیٹوں کے لئے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں یا اپنی بہنوں کے بیٹوں یا اپنی عورتوں یا اپنے زیر نگیں مردوں کے لئے یا مردوں میں ایسے خادموں کے لئے جو کوئی ( جنسی ) حاجت نہیں رکھتے یا ایسے بچوں کے لئے جو عورتوں کی پردہ دار جگہوں سے بے خبر ہیں۔اور وہ اپنے پاؤں اس طرح نہ ماریں کہ (لوگوں پر ) وہ ظاہر کر دیا جائے جو ( عورتیں عموماً) اپنی زینت میں سے چھپاتی ہیں۔اور اے مومنو! تم سب کے سب اللہ کی طرف تو بہ کرتے ہوئے جھکوتا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔آج کی ان آیات سے جو میں نے تلاوت کی ہیں ، سب کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ کس چیز کے بارہ میں میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔اس مضمون کو خلاصہ دو تین مرتبہ پہلے بھی مختلف اوقات میں بیان کر چکا ہوں۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس مضمون کو کھولنے کی مزید ضرورت ہے۔کیونکہ بعض خطوط سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابھی بہت سے ایسے ہیں جو اس حکم کی اہمیت کو یعنی پردے کی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔کوئی کہہ دیتا ہے کہ اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لئے کیا صرف پردہ ہی ضروری ہے؟۔کیا اسلام کی ترقی کا انحصار صرف پردہ پر ہی ہے؟ کئی لوگ کہنے لگ جاتے ہیں کہ یہ فرسودہ باتیں ہیں، پرانی باتیں ہیں۔اور ان میں نہیں پڑنا چاہئے ، زمانے کے ساتھ چلنا چاہئے۔گو جماعت میں ایسے لوگوں کی تعداد بہت معمولی ہے لیکن زمانے کی رو میں بہنے کے خوف سے دل میں بے چینی پیدا ہوتی ہے اور اس معمولی چیز کو بھی معمولی نہیں سمجھنا چاہئے۔ایسے لوگوں کو میرا ایک جواب یہ ہے کہ جس کام کو کرنے یا نہ کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیا ہے اور اس کامل اور مکمل کتاب میں اس بارہ میں احکام آگئے ہیں اور جن اوامر ونواہی کے بارہ میں احضرت اللہ ہمیں بتا چکے ہیں کہ یہ صحیح اسلامی تعلیم ہے تو اب اسلام اور احمدیت کی ترقی اسی کے ساتھ وابستہ ہے۔چاہے اسے چھوٹی سمجھیں یا نہ سمجھیں۔اور یہ آخری شرعی کتاب جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ پر اتاری ہے اس کی تعلیم بھی فرسودہ اور پرانی نہیں ہوسکتی۔اس لئے جن کے دلوں