خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 836 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 836

836 $2004 خطبات مسرور بد نام کرنے کے لئے وہ شور مچاتے ہیں کہ جس کی کوئی حد نہیں ہوتی۔اس لئے ہر ایک کو استغفار کرتے رہنا چاہئے۔کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ حساب لینے لگے تو فرمایا کہ شاید سب یہیں پکڑے جائیں لیکن اس کا رحم اور کرم ہے جو ہم سب ابھی تک بچے ہوئے ہیں۔ایک حدیث میں آتا ہے۔کہ آنحضرت ﷺ نے راز اور سرگوشی کے انداز میں فرمایا کہ: تم میں سے کوئی اپنے رب کے قریب ہو گا۔یہاں تک کہ وہ اپنا سایہ رحمت اس پر ڈالے گا، پھر فرمائے گا تو نے فلاں فلاں کام کیا تھا ! وہ کہے گا ہاں میرے رب ! پھر کہے گا فلاں فلاں کام بھی کیا تھا ؟ وہ اقرار کرے گا۔اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔میں نے اس دنیا میں تیری کمزوریوں کی پردہ پوشی کی آج قیامت کے دن بھی پردہ پوشی کرتا ہوں اور انہیں معاف کرتا ہوں“۔یہ پچھلی حدیث کی وضاحت ہی ہے ) (بخاری کتاب الادب باب ستر المومن على نفسه پھر ایک اور روایت میں آتا ہے۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔کہ آنحضور نے فرمایا: ” مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔وہ اس پر ظلم نہیں کرتا اور نہ ہی اسے یکا و تنہا چھوڑتا ہے۔جوشخص اپنے بھائی کی حاجت روائی میں لگا رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کی حاجات پوری کرتا جاتا ہے۔اور جس نے کسی مسلمان کی کوئی تکلیف دور کی ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مصائب میں سے ایک مصیبت کم کر دے گا اور جو کسی مسلمان کی ستاری کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کی ستاری فرمائے گا۔(ریاض الصالحین۔باب فی قضاء حوائج المسلمين ) تو دیکھیں یہ اللہ تعالیٰ کی ستاری ہی ہے جس سے گناہ بخشے جاتے ہیں۔ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ جب تک اپنے بھائی کی مدد کرنے کے لئے کوشاں رہے گا، کوشش بھی کرتا رہے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتا چلا جائے گا۔اس سے ملتی جلتی ایک اور روایت بھی ہے لیکن اس میں ایک انذار بھی ہے، ڈرایا بھی گیا ہے پردہ پوشی نہ کرنے والے کو۔حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ: ”جس نے اپنے کسی مسلمان بھائی کے کسی عیب کی پردہ پوشی کی اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کے عیب کو ڈھانپ