خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 837
$2004 837 خطبات مسرور دے گا اور ستاری فرمائے گا۔اور جو اپنے کسی مسلمان بھائی کی پردہ دری کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے عیب اور نگ کو اس طرح ظاہر کرے گا کہ اس کے گھر میں اس کو رسوا کر دے گا“۔(سنن ابن ماجه كتاب الحدود باب الستر على المو من دفع الحدود۔۔۔۔۔۔۔۔پس دیکھیں کس قدر انذار ہے۔کمزوریاں تو سب میں ہوتی ہیں تو اللہ تعالیٰ جب جنگ ظاہر کر کے رسوا کرنے لگے تو پھر آدمی کی کوئی جائے پناہ نہیں ہوتی۔کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہوتی۔اس لئے ہمیشہ دوسروں کے عیب دیکھنے کی بجائے ہر ایک کو اپنے پر نظر رکھنی چاہئے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے، حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ” کوئی بندہ کسی بندے کی اس دنیا میں پردہ پوشی نہیں کرتا مگر اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کی پردہ پوشی فرمائے گا“۔(صحیح مسلم کتاب البر والصلة والاداب باب بشارة من ستر الله له یعنی پردہ پوشی کواللہ تعالیٰ بغیر اجر کے نہیں چھوڑے گا۔اور قیامت کے دن اس کا اجر دے گا۔برائی کے اظہار سے برائی پھیلنے کا اور معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لینے کا خطرہ ہوتا ہے، جیسا کہ میں نے پہلے بتایا۔اس لئے برائی کا اظہار بھی نہیں کرنا چاہئے۔اس سے برائی پھیلتی ہے۔اور یہ تجربے میں بات آئی ہے کہ دیکھا دیکھی بہت سی برائیاں پھیلتی ہیں۔اور اسی بارے میں آنحضرت صلى الله نے ہمیں بڑی تاکید فرمائی ہے۔آپ نے فرمایا کہ: ”اگر تو لوگوں کی کمزوریوں کے پیچھے پڑے گا تو انہیں بگاڑ دے گا ، یا ان میں بگاڑ کی راہ پیدا کر دے گا“۔(سنن ابی داود كتاب الادب باب ما في النهي عن التجسس کمزوریوں کے پیچھے پڑ کے پھر ان کو اچھالنے کا ، لوگوں پر ظاہر کرنے کا ، پھیلانے کا مقصد ہوتا ہے یا کوئی بھی برائی جب اس کو پھیلایا جائے تو بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔اس میں ان لوگوں کے لئے جو تجسس کر کے دوسروں کے عیب تلاش کرتے ہیں یا ان کے عیبوں اور کمزوریوں کو پھیلاتے ہیں، سمجھایا گیا ہے کہ تم یہ نہ سمجھو کہ اس طرح تم شاید کوئی اصلاحی کام کر رہے ہو بلکہ بگاڑ پیدا کر رہے ہو۔