خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 835 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 835

خطبات مسرور 835 $2004 تکلیف پہنچتی ہے۔ہر ایک کو اس سوچ کے ساتھ اگلے کی بات کرنی چاہئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”اسلام نے جو خدا پیش کیا ہے اور مسلمانوں نے جس خدا کو مانا ہے وہ رحیم ، کریم حلیم ، تو اب اور غفار ہے۔جو شخص سچی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔اور اس کے گناہ بخش دیتا ہے۔لیکن دنیا میں خواہ حقیقی بھائی بھی ہو یا کوئی اور قریبی عزیز اور رشتہ دار ہو وہ جب ایک مرتبہ قصور دیکھ لیتا ہے پھر وہ اس سے خواہ باز بھی آ جاوے مگر اسے عیبی ہی سمجھتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کیسا کریم ہے کہ انسان ہزاروں عیب کر کے بھی رجوع کرتا ہے تو بخش دیتا ہے۔دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں ہے بجز پیغمبروں کے ( جو اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگے جاتے ہیں) جو چشم پوشی سے اس قدر کام لے بلکہ عام طور پر تو یہ حالت ہے جو سعدی نے کہا ہے " خدا داند بپوشد و همسایه نداند و بخروشد “ کہ خدا تعالیٰ تو جانتے ہوئے بھی پردہ پوشی کرتا ہے لیکن ہمسایہ تھوڑ اعلم ہونے کے باوجود اس کی مشہوری کرتا ہے۔فرمایا: ” پس غور کرو کہ اس کے کرم اور رحم کی کیسی عظیم الشان صفت ہے۔یہ بالکل سچ ہے کہ اگر وہ مواخذہ پر آئے تو سب کو تباہ کر دے۔لیکن اس کا کرم اور رحم بہت ہی وسیع ہے اور اس کے غضب پر سبقت رکھتا ہے“۔(ملفوظات جلد 4 صفحه 138 137 الحكم 24 ستمبر (1904 تو دیکھیں کس طرح آپ نے دوسروں کی ستاری کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اللہ تعالیٰ رحم کرنے والا ہے، اور اس رحم کی صفت کی وجہ سے اپنے بندوں کو بخش دیتا ہے۔بہت دیالو ہے، بہت دینے والا ہے۔حلیم ہے، تو بہ قبول کرتا ہے اس لئے بندے کو کیا پتہ کہ کس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کیا سلوک کرنا ہے۔سعدی کا قول آپ نے بتایا ہے ، جیسا کہ میں نے بتایا، کہ اللہ تعالیٰ تو بعض نقائص کا علم ہونے کے باوجود بندے کی پردہ پوشی کرتا ہے اور ہمسایہ جس کو شاید پوری بات کا علم نہ ہو کوئی ایک پوائنٹ لے کے، کوئی ایک بات لے کے، کوئی ایک فقرہ لے کے بعض دفعہ کوئی لفظ لے کر ہی کسی کو