خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 758 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 758

$2004 758 خطبات مسرور کرتے ہوئے بخشش کے جو دروازے کھولتا ہے اس کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ہر کوئی چاہتا ہے کہ اس سے فائدہ اٹھائے۔خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "جو شخص ایمان کے تقاضے اور ثواب کی نیت سے رمضان کی راتوں میں اٹھ کر نماز پڑھتا ہے اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔( بخارى كتاب الصوم باب فضل من قام (رمضان) انسان کیونکہ غلطیوں کا پتلا ہے دن میں بھی روزانہ کئی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔کئی گناہ سرزد ہو جاتے ہیں۔اس لئے ہر ایک کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو موقع دیا ہے اس سے فائدہ اٹھایا جائے اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کی جائے۔لیکن یاد رکھیں کہ حدیث کے الفاظ ہیں کہ ایمان کے تقاضے پورے کرتے ہوئے نماز پڑھتا ہے۔اب دیکھیں ایمان کا تقاضا کیا ہے۔ایمان کیا تقاضا کرتا ہے۔کیا یہ کہ گیارہ مہینے عبادت کی طرف نمازوں کی طرف حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ نہ ہو اور بارہویں مہینے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ پیدا ہو جائے تا کہ گزشتہ گناہ بخشے جائیں۔نہیں ، ایمان کا تقاضا ہے کہ جو عہد تم نے اللہ سے کیا ہے، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام سے ایک احمدی نے جو عہد کیا ہے ان کو پورا کرے۔جو تبد یلیاں ایک رمضان میں پیدا کی ہیں ان تبدیلیوں کو اب اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا ہے۔اللہ اور اس کے رسول کے جو احکامات ہیں ان پر عمل کرنا ہے۔اور یہ عہد بھی کرنا ہے کہ آئندہ اب ان برائیوں کو ہم نے اپنے اندر پیدا نہیں ہونے دینا۔پھر خدا تعالیٰ کے پیار کی نظر پڑے گی اور گزشتہ گناہ بخشے جائیں گے۔یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے یہ رمضان سے، روزے سے متعلق جو احکامات ہیں قرآن کریم میں ان آیات کے بیچ میں رکھی گئی ہے۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دنوں اپنے بندوں پر پیار کی نظر ڈالنا چاہتا ہے۔بھولے بھٹکوں کو واپس لانا چاہتا ہے۔ان کی عبادتوں کے معیار اونچے کرنا چاہتا ہے تا کہ اس کے صحیح عبد دنیا میں پیدا ہوتے رہیں۔اس میں اللہ تعالیٰ یہی فرماتا ہے کہ جب میرے بندے میرے متعلق سوال کریں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لکھا ہے