خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 757 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 757

خطبات مسرور $2004 757 تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيْبٌ أُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ۔فَلْيَسْتَجِيْبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ (سورة البقره :۔۷۸۱) اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اور جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یقیناً میں قریب ہوں۔میں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔پس چاہئے کہ وہ بھی میری بات پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تا کہ وہ ہدایت پائیں۔رمضان کے شروع ہوتے ہی یہ خیال دل میں فوراً پیدا ہو جاتا ہے کہ کیونکہ یہ برکتوں والا مہینہ ہے اور اس میں دعائیں قبول ہوتی ہیں اس لئے عموماً لوگ مسجدوں کی طرف بھی زیادہ رخ کرتے ہیں۔مسجدوں کی حاضری بھی بڑھتی ہے۔فجر کی نماز کی حاضری بھی بعض دنوں سے زیادہ ہو جاتی ہے، جتنی عام دنوں میں مغرب یا عشا کی نماز پر۔بلکہ مجھے کسی نے لکھا تھا، پہلے یا دوسرے روزے کی بات ہے کہ آج مسجد فضل میں فجر کی حاضری اتنی تھی کہ ہال بھرنے کے بعد بھی لوگ ادھر اُدھر نماز کے لئے جگہ تلاش کرتے پھر رہے تھے۔دنیا کے اور شہروں اور ملکوں سے بھی یہی اطلاعیں آ رہی ہیں کہ ماشاء اللہ مسجدیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے آجکل بڑی رونق دکھا رہی ہیں۔دل خوش ہوتا ہے کہ لوگوں کو خیال آیا اور دنیاوی دھندے چھوڑ کر ، آرام دہ بستروں کو چھوڑ کر صبح اٹھنے، تہجد پڑھنے ، روزہ رکھنے اور پھر مسجد میں نماز کے لئے آنے ، ایک خدا کی عبادت کرنے ، اپنی غلطیوں ، کوتاہیوں اور گنا ہوں کو بخشوانے کی طرف توجہ پیدا ہوئی ہے۔یہ توجہ اللہ تعالیٰ رمضان میں اپنے بندوں پر فضل