خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 759
$2004 759 خطبات مسرور کہ میرے بندے سے یہاں مراد عاشقانِ الہی ہیں، اللہ تعالیٰ کے عاشق ہیں۔اب دیکھیں عاشق کون ہوتے ہیں۔بچے عاشق تو اپنے محبوب کی ہر بات مانتے ہیں۔دنیاوی محبوبوں میں تو بری بھلی ہر قسم کی بات ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی ذات تو ایسی ہے جس میں سوائے نفع کے اور ہے ہی کچھ نہیں۔نفع ہی نفع ہے۔فائدہ ہی فائدہ ہے۔ہر خیر کا وہ سر چشمہ ہے اور ہر برائی سے وہ بچانے والا ہے۔ہر تکلیف سے وہ نجات دینے والا ہے۔وہ کہتا ہے مجھ سے مانگو میں تمہاری دعا کا جواب دوں گا۔اب سچا عاشق کیا مانگتا ہے۔سچا عاشق محبوب سے اس کا قرب مانگتا ہے۔اور جب قرب حاصل ہو جائے ، ایک دوسرے پر یقین پیدا ہو جائے تو ایک دوسرے کو فائدہ پہنچانے کی کوشش ہوتی ہے۔یہاں تو یہ بھی یکطرفہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا قرب ملنا ہے تو فائدہ بھی صرف ہمیں ہونا ہے اور پھر یہ جو ہے کہ صرف فائدہ اٹھانے تک بات نہیں رہتی بلکہ یہ کہ جب تم اس کا قرب پالو گے تو پھر کچھ قربانیاں کرنی پڑیں گی ، ان کے لئے تیار ہونا پڑے گا۔آگے اللہ تعالیٰ مزید کھول کے فرماتا ہے کہ کون میرے بندے ہیں جن کو میں جواب دیتا ہوں۔فرمایا وہ میرے بندے ہیں، وہ میرے عاشق ہیں جو میری بات پر لبیک کہتے ہیں۔اب اللہ تعالیٰ نے جو باتیں کی ہیں جن پر لبیک کہنا ہے وہ کیا ہیں۔وہ حقوق اللہ ہیں، وہ حقوق العباد ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق ہیں، وہ بندوں کے حقوق ہیں۔مستقل مزاجی سے اس کی عبادت بجالائیں۔جن باتوں سے روکا ہے ان سے رک جائیں۔جن باتوں کے کرنے کا حکم دیا ہے ان کی ادائیگی کرنی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم میں سات سو حکم ہیں۔جب رمضان میں قرآن کریم کا مطالعہ کریں گے، گہرائی سے مطالعہ کریں گے ، ترجمہ پڑھیں گے تو ان احکامات کا بھی پتہ لگ جائے گا۔جب پتہ لگ جائے گا تو ان احکامات پر عمل کرنے کی بھی کوشش کرنی ہے۔اور نیک نیتی سے کی گئی کوشش پھر نیکیوں میں بڑھاتی بھی ہے۔تو یہی سچے عاشق کی نشانی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو احکامات ہیں ان پر لبیک کہنا، ان پر عمل کرنا اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کرنا۔