خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 67 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 67

خطبات مسرور علومة 67 $2004 نے اس قدر فرمائی کہ صحابہ کہتے ہیں کہ ہمیں خیال ہوا کہ اب شاید ہماری وارثت میں بھی ہمسائے کا حق ٹھہر جائے گا۔فرمایا کہ یہ ہمسائے جو ہیں ان میں تمہارے رشتہ دار بھی ہیں چاہے دور کے رشتہ دار ہوں یا قریب کے ہوں تمہیں خیال آجائے کہ چلو رشتہ دار ہیں ان سے حسن سلوک کرنا چاہئے ، ان کی ضروریات پوری کرنی چاہئیں۔تو فرمایا کہ صرف رشتہ دار ہمسائے ہی نہیں بلکہ غیر رشتہ دار ہمسائے ہیں وہ بھی تمہارے حسن سلوک کے مستحق ہیں، ان سے بھی حسن سلوک کرنا۔پھر تمہارے ہم جلیس ہیں تمہارے ساتھ بیٹھنے والے ہیں یہ سب تمہارے حسن سلوک کے مستحق ہیں۔حضرت خلیفہ المسح الاول فرماتے ہیں کہ : اس میں تمہارے ساتھ ایک سیٹ پر بیٹھنے والے بھی ہیں۔اب دیکھیں دائرہ کتنا وسیع ہورہا ہے۔صرف ہم مذہب نہیں ،صرف تمہارے ساتھی ہی نہیں بلکہ سکول میں، کالج میں، یونیورسٹی میں ساتھ بیٹھنے والے بھی تمہارے حسن سلوک کے مستحق ہیں ، ان کا بھی خیال رکھو، ان سے بھی حسن سلوک کرو۔ان سے بھی اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔پھر بازاروں میں دوکاندار ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں ،ان سے بھی اخلاق سے پیش آئیں۔پھر دفتروں میں کام کرنے والے ہیں، افسران ہیں، ماتحت ہیں۔تو حضرت خلیفہ اسیح الاول فرماتے ہیں کہ صرف کام کرنے والے افسران یا ماتحت نہیں بلکہ جس محکمے میں آپ کام کرتے ہیں اس محکمہ میں کام کرنے والا ہر شخص تمہارے ہم جلیسوں میں شمار ہوتا ہے اور تمہارے حسن سلوک کا مستحق ہے۔پھر سفر کے دوران، بس میں بیٹھے ہوئے ٹرین میں بیٹھے ہوئے جو لوگ ہیں یہ بھی اسی زمرے میں آتے ہیں ان سے بھی حسن سلوک کرو۔بعض دفعہ بعض مسافروں کو نیند آ جاتی ہے، کئی دفعہ میں نے دیکھا ہے اس طرح ، تو بے چارے کا سرا گر کسی کے کندھے سے یاسر سے ٹکرا جائے تو دوسرے مسافر کو غصہ چڑھ جاتا ہے کہ اپنے آپ کو سنبھال کر بیٹھو۔تو یہ چیزیں چھوٹی چھوٹی ہیں چونکہ آپ کے ہمسائے میں اس کا شمار ہو رہا ہے، ساتھ بیٹھنے والوں میں شمار ہو رہا ہے اس لئے ان سے بھی حسن سلوک کرنا چاہئے۔