خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 68 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 68

خطبات مسرور 68 $2004 پھر ایک تو مسافر ہے کہ مسافر سے حسن سلوک کرے۔اس کے علاوہ ایسے مسافر ہیں جو کیونکہ بعض دفعہ سفر میں وقتیں پیش آ رہی ہوتی ہیں۔گاڑی خراب ہوگئی ، بس خراب ہوگئی ، کار خراب ہوگئی کسی جگہ آگئے اور آپ کی مدد کی ضرورت پڑی تو ان کی مدد کرنی چاہئے ، ان کی رہنمائی کرنی چاہئے ، تو جب تک ان کی پریشانی دور نہ ہو جائے ، ان کا ساتھ دینا چاہئے ، یہ سب حسن سلوک کے مستحق ہیں۔پھر فرمایا کہ ان سے بھی حسن سلوک کرو جن کے تم مالک ہو۔اس زمانے میں تو خیر غلام کا تصور نہیں، پرانے زمانے میں غلام ہوتے تھے۔لیکن تمہارے جو ملازمین ہیں ان کی ضروریات کا بھی خیال رکھو، ان کو اگر تمہاری مدد کی ضرورت ہے تو ان کی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کر و غمی خوشی میں ان کی ضرورتوں کا خیال رکھو۔ان کے بچوں کو اگر مالی تنگی کی وجہ سے پڑھنے میں دقت ہے تو ان کی مدد کرو، ان کو پڑھاؤ۔اگر کوئی لائق نکل آئے اور پڑھ لکھ کر قابل آدمی بن جائے تو تمہارے لئے ویسے بھی مستقل ثواب کا باعث بن جائے گا۔تو یہ ہے اسلام کی وہ حسین تعلیم کہ حسن سلوک سے تم ایک حسین معاشرہ قائم کر سکتے ہو۔اور بھی بہت ساری باتیں ہیں، قیدیوں سے بھی حسن سلوک کا ذکر ہے مریضوں سے بھی وغیرہ وغیرہ تو اگر ہر ایک اپنے اپنے دائرے میں دوسرے سے حسن سلوک کرنے والا بن جائے تو دنیا کے فساد تو خود بخود ختم ہو جائیں گے اور پھر وہ جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے بھی ہوں گے تو پھر تو یہ سونے پر سہاگے والی بات ہوگی اور آج اس تفصیل سے یہ حسن سلوک سوائے احمدی کے اور کوئی نہیں کر سکتا۔یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے جو ہم نے ادا کرنی ہے اس لئے اس طرف ہمیں بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اب چند احادیث پیش کرتا ہوں اور اقتباسات۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ: تم خدا کی پرستش کرو اور اس کے ساتھ کسی کو مت شریک ٹھہراؤ اور اپنے ماں باپ سے احسان کرو اور ان سے بھی احسان کرو جو تمہارے قرابتی ہیں (اس فقرے میں اولا د اور بھائی اور