خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 66
$2004 66 خطبات مسرور تحت سینکڑوں یتامی بالغ ہو کر پڑھائی مکمل کر کے کام پر لگ جانے تک ان کو پوری طرح سنبھالا گیا۔اسی طرح لڑکیوں کی شادیوں تک کے اخراجات پورے کئے جاتے رہے اور کئے جارہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت اس میں دل کھول کر امداد کرتی ہے اور زیادہ تر جماعت کے جو مخیر احباب ہیں وہی اس میں رقم دیتے ہیں۔الحمد للہ، جزاک اللہ ، ان سب کا شکریہ۔اب میں باقی دنیا کے ممالک کے امراء کو بھی کہتا ہوں کہ اپنے ملک میں ایسے احمدی بیتامی کی تعداد کا جائزہ لیں جو مالی لحاظ سے کمزور ہیں، پڑھائی نہ کر سکتے ہوں، کھانے پینے کے اخراجات مشکل ہوں اور پھر مجھے بتائیں۔خاص طور پر افریقن ممالک میں، اسی طرح بنگلہ دیش ہے، ہندوستان ہے، اس طرف کافی کمی ہے اور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔تو با قاعدہ ایک سکیم بنا کر اس کام کو شروع کریں اور اپنے اپنے ملکوں میں بیتامی کو سنبھالیں۔مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ جماعت میں مالی لحاظ سے مضبوط حضرات اس نیک کام میں حصہ لیں گے اور انشاء اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے سنبھالنے میں جو اخراجات ہوں گے ان میں کوئی کمی نہیں پیش آئے گی۔لیکن امراء جماعت یہ کوشش کریں کہ یہ جائزے اور تمام تفاصیل زیادہ سے زیادہ تین ماہ تک مکمل ہو جائیں اور اس کے بعد مجھے بھجوائیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو توفیق دے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم بتا می کا جو حق ہے وہ ادا کر سکیں۔پھر فرمایا : مسکین لوگوں سے بھی حسن سلوک کرو۔ان مسکینوں میں تمام ایسے لوگ آجاتے ہیں جن پر کسی کی قسم کی تنگی ہے۔ان کی ضروریات پوری کرو۔اس کا جائزہ بھی ہر احمدی کو اپنے ماحول میں لیتے رہنا چاہئے۔مسکینوں سے صرف یہ مراد نہ لیں کہ جو مانگنے والے ہیں۔مانگنے والے تو اپنا خرچ کسی حد تک پورا کر ہی لیتے ہیں مانگ کر۔لیکن بہت سے ایسے سفید پوش ہیں جو تنگی برداشت کر لیتے ہیں لیکن ہاتھ نہیں پھیلاتے۔اور اس آیت کے مصداق ہوتے ہیں کہ لَا يَسْتَلُوْنَ النَّاسَ الحافاً تو ان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش کریں۔پھر فرمایا کہ تمہارے اس سلوک کے بہت زیادہ مستحق ہمسائے بھی ہیں، ان سے بہت زیادہ حسن سلوک کرو۔بلکہ اس کی تاکید تو آنحضرت