خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 674
$2004 674 مسرور پھر لڑائی جھگڑوں میں کئی کئی مہینے بلکہ سالوں ناراضگیاں چلتی ہیں۔لیکن ایک مومن کے لئے یہ حکم ہے کہ اس کو صلح کرنے میں جلدی کرنی چاہئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرے۔یعنی بول چال بند رکھے۔بعض دفعہ حیرت ہوتی ہے یہ باتیں سن کر کہ قریبی رشتہ دار آپس میں بعض دفعہ مہینوں ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے اور جس بات پر لڑائی یار بخش ہو وہ بالکل معمولی سی بات ہوتی ہے تو ایسے لوگوں کو ہمیشہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سامنے رکھنا چاہئے کہ اول تو لڑنا ہی نہیں ہے۔اگر کوئی لڑائی ہو بھی گئی ہے، کوئی وجہ بن بھی گئی ہے تو تین دن سے زیادہ حکم نہیں ہے کہ کوئی مومن دوسرے مومن سے بات نہ کرے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ جھگڑالو ہو۔یعنی اللہ تعالیٰ اس کو پسند نہیں کرتا پس ہر احمدی کو چاہئے کہ تقویٰ اختیار کرے اور خدا تعالیٰ کا پسندیدہ بننے کی کوشش کرے۔آپس کے جھگڑوں اور لڑائیوں اور فسادوں کو ختم کریں۔مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ ایک طرف تو ایمان لانے کا دعویٰ ہو اور دوسری طرف اپنے بھائی کے گناہ نہ بخشتا ہو۔اس کی غلطیاں نہ معاف کر سکتا ہو۔کیونکہ ایسے لوگ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ناپسندیدہ ترین شخص ہوں گے۔(بخاری کتاب التفسير باب وهو الد الخصام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام اس ضمن میں ہم سے کیا چاہتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں ( آپ وہی چاہتے ہیں جو خدا چاہتا ہے ) فرماتے ہیں کہ خدا چاہتا ہے کہ تمہاری ہستی پر پورا پورا انقلاب آوے۔اور وہ تم سے ایک موت مانگتا ہے جس کے بعد وہ تمہیں زندہ کرے گا۔تم آپس میں جلد صلح کرو اور اپنے بھائیوں کے گناہ بخشو۔کیونکہ شریر ہے وہ انسان جو اپنے بھائی کے ساتھ صلح پر راضی نہیں ہے۔وہ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ تفرقہ ڈالتا ہے۔(کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحه 12 )