خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 675
خطبات م مسرور 675 $2004 خدا کرے کہ ہم آپس میں جو چھوٹی چھوٹی باتوں میں رنجشیں ہیں اور لڑائیاں ہوتی ہیں ان کو جلد ختم کرنے والے ہوں، ہر کوئی جلد صلح کی طرف بڑھنے والا ہو۔یہ بڑا سخت انذار ہے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔کہ وہ کاٹا جائے گا۔خدا نہ کرے کہ کبھی کوئی احمدی کاٹا جائے پس استغفار کریں اور ہر احمدی کو بہت زیادہ استغفار کرنا چاہئے۔اور یہ دعا بھی پڑھنی چاہئے کہ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ۔(آل عمران : ٩) پھر آپ فرماتے ہیں: ” میں صلح کو پسند کرتا ہوں اور جب صلح ہو جاوے پھر اس کا ذکر بھی نہیں کرنا چاہئے کہ اس نے کیا کہا اور کیا کیا“۔یعنی جب کسی سے لڑائی ہوئی اور پھر صلح ہوئی تو پھر دوبارہ جس سے صلح ہو گئی ہے اس کے پاس ذکر نہیں ہونا چاہئے کہ اس نے کیا کہا۔یا کیا کیا، میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص جس نے مجھے ہزاروں مرتبہ دجال اور کذاب کہا ہو اور میری مخالفت میں ہر طرح کوشش کی ہو اور وہ صلح کا طالب ہو تو میرے دل میں خیال بھی نہیں آتا اور نہیں آ سکتا کہ اس نے مجھے کیا کہا تھا اور میرے ساتھ کیا سلوک کیا تھا۔ہاں خدا تعالیٰ کی عزت کو ہاتھ سے نہ دے۔یہ سچی بات ہے کہ جو شخص چاہتا ہے کہ اس کی وجہ سے دوسروں کو فائدہ پہنچے اس کو کینہ ور نہیں ہونا چاہئے۔اگر وہ کینہ ور ہو تو دوسروں کو اس کے وجود سے کیا فائدہ پہنچے گا جہاں ذرا اس کے نفس اور خیال کے خلاف ایک امر واقعہ ہوا اور انتقام لینے کو آمادہ ہو گیا۔اسے تو ایسا ہونا چاہئے کہ اگر ہزاروں نشتروں سے بھی مارا جاوے پھر بھی پرواہ نہ کرئے“۔فرمایا کہ : ” میری نصیحت یہی ہے کہ دو باتوں کو یادرکھو۔ایک خدا تعالیٰ سے ڈرو دوسرے اپنے بھائیوں سے ایسی ہمدردی کرو جیسے اپنے نفس سے کرتے ہوا گر کسی سے کوئی قصور اور غلطی سرزد ہو جاوے تو اسے معاف کرنا چاہئے نہ یہ کہ اس پر زیادہ زور دیا جاوے اور کینہ کشی کی عادت بنالی جائے۔(ملفوظات جلد 5 صفحه 69 الحكم 10ستمبر 1906)۔