خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 673
$2004 673 خطبات مسرور وہی درجہ رکھا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف جانے والے کی حرکتوں کا ہے۔دوسرے یہاں یہ بھی پتہ لگ گیا کہ اللہ کے بندوں کی خدمت کرنے والے ان کے حقوق ادا کرنے والے، ایسے حقوق کی ادائیگی کرنے والے لوگوں کو ان کی نیکیوں کا بھی اتنا ثواب ملے گا جتنا عبادت کرنے کا ثواب ہے جتنا نماز پڑھنے کا ثواب ہے۔یعنی یہ دونوں چیزیں جیسا کہ کئی دفعہ ذکر ہو چکا ہے اور سب کو علم ہے۔کہ اللہ کے حقوق بھی ، بندوں کے حقوق بھی ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔پھر فرمایا کیونکہ صدقہ ہے۔اس لئے اس کا ثواب بھی یقینا صدقے کی طرح ہوگا۔اور ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ صدقے کا ثواب سات سو گنا تک ہو جاتا ہے تو یہ ہے بھلائی کی بات کہنے والے کا صلح صفائی کروانے والے کا مقام۔پھر حضرت ابو عباس سہل روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی کہ بنی عمرو بن عوف میں کوئی جھگڑا ہو گیا ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ساتھیوں کے ساتھ ان کی صلح کروانے کے لئے تشریف لے گئے۔اس دورانآ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں دیر ہوگئی۔اور نماز کا وقت ہو گیا۔چنانچہ حضرت بلال ، حضرت ابوبکر، کے پاس آئے اور کہا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم بنی عمر و بن عوف میں صلح کروانے کے لئے گئے تھے وہاں دیر ہوگئی ہے جبکہ نماز کا وقت ہو گیا ہے کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں گے۔تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اگر آپ چاہتے ہیں تو میں نماز پڑھادیتا ہوں۔اصل حدیث میں جو مضمون ہے وہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو ترجیح دی کہ کچھ دیر رک جائیں اور فریقین میں صلح صفائی کروا دیں۔نماز جو با جماعت ہوئی تھی وہ بعد میں پڑھ لیں گے۔ظاہر ہے اس وقت کچھ وقت نماز کا ہوگا۔تبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ ٹھیک ہے کچھ لوگ بعد میں پڑھ لیں گے پڑھا دی جائے۔لیکن اس وقت مقدم یہی ہے کہ دو مسلمان جولڑے ہوئے ہیں ان کی صلح صفائی کروائی جائے۔