خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 670
خطبات مسرور 670 $2004 تو فرمایا ایسے لوگوں سے فیصلہ منوانے کے لئے ضروری ہے کہ ان پر دباؤ ڈالو، فیصلہ غلط ہے یا صحیح ہے۔جب اپیل کے بعد تمام حق ختم ہو گئے تو اب معاشرے کا کام ہے کہ فیصلہ پر عمل درآمد کے لئے دباؤ ڈالے اور اگر معاشرہ صحیح طور پر دباؤ ڈال رہا ہو تو معاشرے کا دباؤ کوئی نہیں سہہ سکتا۔تو چھوٹے معاشرے کی حد تک جماعت کے اندر جیسا کہ میں نے کہا اس حکم کی تعمیل کے لئے یہ کہا گیا ہے کہ اس کا یہی مطلب ہے کہ ان پر معاشرے کا دباؤ ڈالو۔رشتہ داریوں کا دباؤ ڈالو، دوستیوں کا دباؤ ڈالو تو جب یہ دباؤ پڑ رہے ہوں گے تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی فیصلہ ماننے سے انکاری ہو جائے۔تو اس طرح پورا معاشرہ نظام جماعت کی مدد کر رہا ہو گا۔بلکہ میں تو کہوں گا کہ جب اس حکم کے تحت ایسا معاشرہ قائم ہو جائے گا تو ایک دو واقعات کے بعد ایک دوسرے کے حقوق غصب کرنے کی کوئی کوشش ہی نہیں کرے گا۔یہ لڑائیاں ، فساد اور فتنے ہی جماعت کے اندر نہیں ہوں گے۔پھر فرمایا کہ جب اس دباؤ کی وجہ سے دوسرا فریق صلح پر راضی ہو جائے ، فیصلہ ماننے پر راضی ہو جائے تو پھر نہ ہی معاشرے کو ، لوگوں کو ، دوستوں کو نہ ہی نظام جماعت کو کسی قسم کی انا کا مسئلہ بنانا چاہئے بلکہ انہیں شرائط پر جو فیصلہ میں طے کی گئی تھیں۔ان کی تنفیذ ہونی چاہئے۔اور پھر یہ ہر فریق کو بھول جانا چاہئے کہ کوئی مسئلہ ہوا تھا خاص طور پر جس فریق کو حق ملنا ہے یا جن لوگوں نے تنفیذ کروانی ہے پھر یہ نہیں کہ کچھ عرصے بعد اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد اس کو یاد کروایا جائے کہ تمہارے ساتھ یہ ہوا تھا، تمہاری تعزیر ہوئی تھی ، تمہارے ساتھ فلاں ہوا تھا۔پھر اس چیز کو بھول جائیں، پھر فیصلہ پر عمل کرنے والے کو معاشرے میں وہی مقام دیں جو ایک عام آدمی کا ہے۔جو سب کا ہے۔دوسرے فریق کو بھی یہ کہنا ہو گا جس کا حق غصب کیا گیا جیسا کہ میں نے کہا کہ اب کیونکہ تمہیں تمہارا حق مل گیا ہے اس لئے آپس میں محبت اور پیار سے رہنا شروع کر دو، دلوں کے کینے نکال دو۔اگر اس طرح معاشرہ عدل اور انصاف کے تقاضے پورے کرے گا تو فرمایا پھر اللہ تعالیٰ بھی ایسے لوگوں سے