خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 669 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 669

669 $2004 خطبات مسرور مؤمن کے لئے یہ حکم ہے کہ اول تو تم ان جھگڑوں سے بچو ، اور اگر کبھی ایسی صورت پیدا ہو جائے کہ یہ لڑائی جھگڑے آپس میں ہونے لگیں تو دوسرے مومن مل بیٹھیں ، اور ان کی آپس میں صلح کروائیں۔دونوں کو قائل کریں کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر یوں لڑنا اچھا نہیں ہے۔کیوں اللہ تعالیٰ کے نافرمان بنتے ہو۔آپس میں ایک دوسرے کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہے۔ایک دوسرے سے بدلے لینے کا کسی کو اختیار نہیں ہے۔اگر وہ اس کو سمجھانے سے باز آجائیں اور صلح اور صفائی سے سی فیصلے پر پہنچ جائیں تو ٹھیک ہے ورنہ پھر جو فیصلہ نہیں مانتا اس کو پھر فرمایا کہ سزا دو۔اس کو معاشرے میں کوئی مقام نہ دو، اس کے ہمدردنہ بنو۔اب بعض جھگڑوں کے فیصلے کے لئے لوگ جماعتی طور پر بھی قضاء میں آتے ہیں یا ثالثی کرواتے ہیں۔اور جب ایک فیصلہ ہو جاتا ہے۔تو بعض ان میں سے فیصلہ ماننے سے انکار کرنے لگ جاتے ہیں۔اور اس وجہ سے جب ان کو کوئی تعزیر ہوتی ہے کوئی سزا ملتی ہے، کیونکہ جماعتی معاشرے کے اندر تو نظام جماعت کا فیصلہ نہ ماننے پر اظہار ناپسندیدگی ہوسکتا ہے نا۔کوئی پولیس فورس تو جماعت کے پاس ہے نہیں تو جب یہ سزا ملتی ہے تو فیصلہ نہ ماننے والوں کے عزیز یا دوست بجائے اس کے کہ ان پر دباؤ ڈالیں کہ برکت اسی میں ہے کہ فیصلہ مان لو، یہ کہنے کی بجائے ان کی حمایت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ناجائز حمایت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔تو اس طرح کی ناجائز حمایت سے تو سزا یافتہ شخص کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔اس کو پتہ ہے میرا بھی ایک گروہ ہے میرے قریبی میرا برا نہیں مان رہے۔میرا اٹھنا بیٹھنا جس معاشرے میں ہے اس میں اس چیز کو برائی نہیں سمجھا جا رہا۔تو پھر اصلاح نہیں ہوتی۔یا ہوتی ہے تو بڑا لمبا عرصہ چلتا ہے۔اس لحاظ سے اصلاح کے لئے حکم ہے تو پورے معاشرے کو حکم ہے کہ جب کسی کے خلاف تعزیر ہو تو پورا معاشرہ اس پر دباؤ ڈالے، اس کی اصلاح کی کوشش کرے۔نہ کہ نا جائز حمایت۔