خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 671 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 671

$2004 671 خطبات مسرور محبت کرتا ہے۔اور جب اللہ تعالیٰ کسی سے محبت کرتا ہے تو یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔جو ایک مومن کو ملتی ہے۔پھر اگلی آیت میں فرمایا ہے کہ مومن بھائی بھائی ہیں۔ان کو معاشرے میں صلح وصفائی سے رہنا چاہئے اور اگر کبھی رنجش پیدا ہو بھی جائے تو صلح کروانے کے طریق کو اختیار کر وہ تمام معاشرہ ، ہر فرد جماعت ایک دوسرے کے حق کی حفاظت کرے۔اور اس کو حق دلوائے۔یہی اللہ تعالیٰ کا تقویٰ ہے۔اس سے تم اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے حقوق العباد ادا کرنے والے کہلا ؤ گے۔اور جب یہ حالت تمہیں حاصل ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ جو اسی انتظار میں رہتا ہے کہ اپنے بندوں پر رحم کرے وہ پیارا خدا تم پر رحم کرے گا۔اب میں چند احادیث پیش کرتا ہوں جس سے معاشرے کی اصلاح کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا پتہ چلتا ہے۔حضرت ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، وہ شخص کذاب نہیں کہلا سکتا جو لوگوں کے درمیان اصلاح کروانے کی غرض سے صرف اچھی بات ان تک پہنچا تا ہے یا کوئی بھلائی کی بات کہتا ہے۔یعنی وہ شخص جھوٹا نہیں ہوسکتا جو اصلاح کی غرض سے صرف اچھی بات پہنچائے۔بعض دفعہ دو آدمیوں میں تعلقات ٹھیک نہیں ہوتے لیکن ایک دوسرے کی اچھائیوں، برائیوں، نیکیوں اور بدیوں کا بھی پتہ ہوتا ہے جب تعلق ایک دوسرے سے ٹھیک تھے۔اگر کوئی تیسرا شخص جس کا ان دونوں سے تعلق ہے وہ اگر کسی سے دوسرے کے بارے میں نیکی کی بات سنے تو دونوں میں صلح کروانے کی غرض سے اس نیکی کی بات کو ان تک پہنچائے۔اور سمجھائے کہ دیکھو کہ فلاں نے، دوسرے آدمی نے تمہارے بارے میں فلاں وقت میں بتا دیا تھا کہ تمہارے اندر فلاں فلاں نیکیاں ہیں۔اس کے دل میں تمہاری بڑی قدر ہے۔اور جن باتوں پر تمہاری رنجشیں ہو چکی